site
stats
امریکا

پینٹاگون کی فضا میں پرواز کرنے والی اڑن طشتری کی خفیہ ویڈیو جاری

واشنگٹن : خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کی کہانیاں ، کارٹونز اور فلمیں تو سب نے بہت دیکھ رکھی ہیں لیکن امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے باقائدہ طور پر فضا میں پرواز کرنے والی اڑن طشتری کی خفیہ ویڈیو جاری کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق خلائی مخلوق کا وجود اور اڑن طشتریوں کے راز سے پردہ اٹھانے کیلئے ترقی یافتہ ممالک ایک لمبے عرصے سے تحقیق کر رہے ہیں اور ان تحقیقات میں امریکہ ہمیشہ سے سر فہرست رہا ہے۔

اسی سلسلے میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے کیلی فورنیا میں ایک طیارہ نما چیز کی ویڈیو جاری کر دی گئی ہے، جس کا پیچھا امریکی نیوی کے دو جیٹ طیارے کر رہے تھے۔

امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ پینٹاگون اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کی تحقیق پر ایک خفیہ پروگرام چلا رہا ہے، اس پروگرام کیلئے خفیہ طور پر سالانہ بیس کروڑ ڈالرز بھی فراہم کئے جارہے ہیں، اسی تحقیق سے منسلک رہنے والے پینٹاگون کے ایک سابق اہلکار لوئس ایلذانڈو کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہم اکیلے نہیں اور خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کا وجود ایک سچ ہے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ امریکہ میں خلائی مخلوق کی تحقیق پر تجزیے اور تبصرے کئے جارہے ہوں، اسی تحقیق سے منسلک ناسا کے ایک سائنسدان کا ماننا ہے کہ زیادہ تر سیاروں کی مخلوق اپنے وسائل استعمال کر چکی ہے اور اب وہ اپنے سیاروں جیسے کسی زمین کی تلاش میں ہیں۔

ایک اور امریکی خلاء باز ایڈ گر مچل نے کچھ سال پہلے ایک کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ خلائی مخلوق کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں لیکن امریکی حکومت انہیں چھپا رہی ہے۔

سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے 1980 میں خلائی مخلوق کے حوالے سے خفیہ معلومات منظر عام پر لانے کا اعلان کیا تھا تاہم وہ ایسا نہیں کر سکے تھے جبکہ ایک اور امریکی صدر رونلڈ ریگن نے اپنے جہاز میں اڑن طشتری کا پیچھا کرنے کا دعوی کیا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس وقت ناسا اور پینٹاگون کے پاس اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کی موجودگی کے سینکڑوں شواہد موجود ہیں تاہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ان معاملات کو خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top