The news is by your side.

Advertisement

ایک ہی لاش کی دو بار آخری رسومات ادا، وجہ حیران کن

بھارت میں مرنے والے ایک ہی شخص کے دو مختلف مذاہب کے لواحقین سامنے آنے کے بعد لاش کی دو بار آخری رسومات ادا کی گئیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی بھوپال کے ضلع بالا گھاٹ میں ایک عجیب وغیر معاملہ پیش آیا جس کے بعد ایک ہی لاش کی دو بار آخری رسومات ادا کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق بلاگھاٹ کے علاقے بیہر جتہ بھنڈیری میں ندی کے کنارے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی، جس کی اطلاع اہل علاقہ نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو دی گئی پولیس نے لاش کی شناخت کے لیے اطراف کے علاقوں کے تھانوں میں یہ اطلاع پہنچائی جہاں اکوا پولیس اسٹیشن میں امت جیمز نامی ایک شخص نے اپنے والد آنند جیمس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔

لاش کی شناخت کے لیے جب مذکورہ شکایت کنندہ کے اہل خانہ کو بلایا گیا تو لاش کی حالت ٹھیک نہیں تھی تاہم مذکورہ خاندان نے جسم پر شناختی نشانات کی بنیاد پر اسے گمشدہ آنند جیمس بتایا جس کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی کرکے لاش ورثا کے حوالے کردی اور انہوں نے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق لاش کو مشن اسکول بیہر کے قریب قبرستان میں دفن کردیا۔

تاہم اس کے بعد جب ملاجکھنڈ تیگی پور کے رہنے والے بیگا خاندان نے متوفی کی تصویر واٹس ایپ پر دیکھی تو انہوں نے بیہر پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی کہ لاش ہمارے خاندان کے سکھ لال پرتے کی ہے۔

لاش پر تنازع پیدا ہونے کے بعد بیہر پولیس نے دونوں خاندانوں کے سامنے دفن کی گئی لاش کو باہر نکالا۔ دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی اور لاش کے نشانات کی بنیاد پر متوفی کو سکھ لال پراتے سمجھتے ہوئے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔ جس کے بعد اس دوسری بار اس کی آخری رسومات سکھ مذہب کے عقائد کے مطابق ادا کی گئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں