The news is by your side.

Advertisement

کیا ہچکیاں بھی کرونا وائرس کی علامت ہوسکتی ہیں؟

کرونا وائرس کی اب تک متعدد علامات سامنے آچکی ہیں، سب سے عام علامات بخار، گلے کی سوزش، سانس لینے میں تکلیف اور سونگھنے اور چکھنے کی حس کا چلے جانا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل ہچکیاں آنا بھی کرونا وائرس کی علامت ہوسکتا ہے۔

امریکی ڈاکٹرز کے مطابق انہوں نے چند روز قبل ایک 62 سالہ مریض کا علاج کیا جو مسلسل 4 دن تک ہچکیوں کے باعث ایمرجنسی میں داخل کیا گیا۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہچکیوں کے علاوہ مریض کو اور کوئی شکایت نہیں تھی اور نہ اس میں کرونا وائرس کی کوئی علامت ظاہر ہوئی۔

ڈاکٹرز نے مریض کا ایکسرے کیا تو اس کے پھیپھڑے تشویش ناک حالت میں پائے گئے، پھیپھڑے سوزش کا شکار تھے جبکہ ان سے خون بھی جاری تھا حالانکہ مریض کبھی بھی ماضی میں پھیپھڑے کی تکلیف کا شکار نہیں رہا تھا۔

اس کے فوراً بعد مریض کو بخار بھی ہوگیا، اس دوران ڈاکٹرز نے اس کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا تو وہ مثبت آیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق سی ٹی اسکین نے مریض کے پھیپھڑوں کی سوزش مزید وضاحت سے دکھائی، ان کے مطابق یہ سوزش ہی ہچکیوں کی وجہ بنی۔

امریکی ماہرین کے مطابق یہ اب تک ان کے مشاہدے میں آنے والا کرونا وائرس کا وہ پہلا مریض ہے جو ہچکیوں کی وجہ سے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی سامنے آنے والی علامات اس بات کی متقاضی ہیں کہ وسیع پیمانے پر وائرس کی علامات اور اثرات پر تحقیق کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں