پرویزخٹک کی سربراہی میں انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا دوسرا اجلاس آج ہوگا
The news is by your side.

Advertisement

پرویزخٹک کی سربراہی میں انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا دوسرا اجلاس آج ہوگا

اسلام آباد : وزیر دفاع پرویزخٹک کی زیر صدارت انتخابی دھاندلی سےمتعلق پارلیمانی کمیٹی کا دوسرااجلاس آج ہوگا، جس میں کمیٹی کے ٹی او آرز طے کئے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا دوسرااجلاس آج ہوگا، اجلاس پرویزخٹک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ڈھائی بجے ہوگا۔

اجلاس میں کمیٹی کے ٹی او آرز طے کئے جائیں گے جبکہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹی بنانے پر بھی غورہوگا۔

یاد رہے 7 نومبر کو انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا تھا ، جس میں وفاقی وزیر پرویز خٹک کو پارلیمانی کمیٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں :  پرویز خٹک الیکشن میں مبینہ دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین منتخب

اجلاس میں سب کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور سب کمیٹی کے لئے تین تین نام فائنل کیےگئے جب کہ ایک ایک نام پر مشاورت ہونا تھی۔

حکومتی کی جانب سے شیریں مزاری، شفقت محمود، طارق بشیرچیمہ کے نام سامنے آئے جبکہ اپوزیشن نے رانا ثنا اللہ، نوید قمر، حاصل بزنجوکے نام فائنل کیے۔

یاد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی طرف سے پی ٹی آئی کی حکومت پر دھاندلی کے الزامات مسلسل لگتے آ رہے ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

حکومت نے اس ضمن میں اپوزیشن کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی ، پارلیمانی کمیشن بنانے کی تحریک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کی تھی اور کہا تھا ہم شفافیت کے قائل ہیں، انتخابات کی شفافیت کے لیے سب کچھ عوام کے سامنے رکھنے کو تیار ہیں۔

مزید پڑھیں : عمران خان کا خطاب ، دھاندلی الزامات کی تحقیقات کی پیش کش

واضح رہے وزیرِ اعظم عمران خان اپنی پہلی تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ وہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں جبکہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ آج چند سیاسی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، جو مطالبات ہیں، انھیں پورا کریں گے ،سمجھتا ہوں، پاکستان کےسب سےشفاف الیکشن ہوئےہیں، البتہ اپوزیشن کےجوبھی خدشات ہیں،دھاندلی کاجہاں بھی الزام لگاوہاں پرتحقیقات کے لئےتیارہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں