site
stats
پاکستان

جمہوریت کی بات کرنے والوں نے جمہوریت کی دھجیاں اڑادیں: پرویزمشرف

کراچی: سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بات کرنے والوں نے جمہوریت کی دھجیاں اڑادیں ہیں۔

اے آروائی نیوز کے پروگرام ’’سوال یہ ہے‘‘ میں ڈاکٹردانش کو خصوصی انٹرویودیتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی خلا ہے جمہوریت کی باتیں کرنے والے ہی جمہوریت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کا فقدان اس لئے ہے کہ سیاست دان الیکشن جیتنے کے لئے پیسے لگاتے ہیں اور پھر اقتدار میں آنے کے بعد اربوں بلکہ کھربوں کماتے ہیں۔


مکمل انٹریو دیکھنے کے لئے خبر کے نیچے اسکرول کریں


سابق صدر کاکہنا تھا کہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان کرپشن نے پہنچایا ہے سندھ میں سب سے زیادہ کرپشن ہے پنجاب میں بھی احتساب ہونا چاہئے اور کرپشن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے چاہئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرضوں پر قرضے لئے جارہے جن سے سرکلر ڈبٹ بڑھتا ہے، چین سے جو 45 ارب روپے آرہے ہیں ان پر بھی سود دینا ہے۔

آئین کی خلاف ورزی کے حوالے سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے قبول نہ کرنا بھی آئین کی خلاف ورزی ہےاورآئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جانی چاہئے۔

سابق صدر نے یہ بھی کہاکہ پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہوچکا ہے لہذا 2013
کے الیکشن کو کالعدم قراردے کر 3 سال کے لئے عبوری حکومت قائم کی جائے جسے فوج اور عدلیہ کی حمایت حاصل ہو اور وہ ایک بار پھر پورے نظام کی ری انجینئرنگ کرے۔

جنرل (ر) مشرف کاکہنا تھا کہ عمران خان کا الزام بالکل درست ہے اورسابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری دھاندلی کے ذمہ دار ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر تبصرہ کرتےہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ دنیا نے دیکھا ہے کہ نہتے افراد پر پوائنٹ بلینک برسٹ مارے گئے اس سانحے کے ذمہ داروں کو ملٹری کورٹس سے سزا دلوانی چاہیئے۔

پاک بھارت تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 2005 میں بھی بھارت جنگی جنون میں مبتلا تھا اور سرحدوں پر فوج لے آیا تھا جس کے جواب میں ہم نے بھی سرحدوں پر فوج تعینات کی تھی۔

پرویز مشرف نے انکشاف کیا کہ 2005 میں انٹیلی جنس اطلاع ملی تھی کہ بھارت آج لائن آف کنٹرول پر ایئر اسٹرائیک کرے گا لہذا اہم نے اپنی فضائیہ کو موثر اور بھرپور جواب دینے کے لئے الرٹ کردیا تھا جس کے سبب بھارت نے ایسی غلطی کرنے کی ہمت نہیں کی۔

انہوں نے نے کہا کہ اگر بھارت دہشت گردی کی بات کرتا ہے تو جواب میں ہمیں بھی سمجھوتا ایکسپریس میں مارے جانے والے 100 افراد کی بات کرنی چاہیئے لیکن ہماری حکومت کا رویہ معذرت خوانہ ہے۔

سابق صدرنے تنبیہہ کی کہ ہتھیار بھارت کے پاس بھی ہیں اور ہمارے پاس بھی انتہائی مہلک ہتھیار ہیں لہذا کوئی اس خیال میں نہ رہے کہ جنگ مختصر پیمانے کی ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top