The news is by your side.

Advertisement

پرویزمشرف کیس، اسلام آبادہائیکورٹ نے بینچ تشکیل دےدیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ معطل کرنے کی درخواستوں پر بینچ تشکیل دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کافیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ معطل کرنے کی حکومتی اورسابق صدر کے وکیل کی جانب سے دائر درخواستوں پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنی سربراہی میں بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

بینچ میں جسٹس اطہرمن اللہ،جسٹس عامرفاروق اوت جسٹس محسن اخترکیانی شامل ہیں۔

درخواست پر سماعت اسلام آبادہائیکورٹ میں کل12بجےکی جائےگی۔ ابتدائی سماعت کل لارجربینچ کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے مشرف کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواست دائر کر دی

قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف آئین شکنی کیس کا فیصلہ روکنے کے لیے دو درخواستیں دائرکی گئیں، ایک درخواست وزارت داخلہ اور دوسری پرویز مشرف کے وکیل نے دائر کی۔

وزارت داخلہ نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے اور نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے بھی روکا جائے، اس کے علاوہ خصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ معطل کیا جائے۔

پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے اور نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے بھی روکا جائے، حکومتی درخواست

دوسری جانب مشرف کے وکیل درخواست میں کہا ہے کہ پرویز مشرف سے قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے، کیس میں انھیں دفاع کے حق سے محروم کیا گیا، مشرف شدید علالت کے باعث پیش نہیں ہوسکے، خصوصی عدالت کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل چار اور دس اے کی خلاف ورزی ہے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ19 نومبر 2019 کا خصوصی عدالت کا فیصلہ معطل کیا جائے اور خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے سے روکا جائے۔

یاد رہے 23 نومبر کو سابق صدر پرویزمشرف کی جانب سے خصوصی عدالت کے فیصلہ محفوظ کرنے کیخلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا ، جس میں کہا گیا تھا عدالت نے مؤقف سنے بغیر کیس کا فیصلہ محفوظ کیا، کیس کی سماعت تندرست ہونےتک ملتوی کی جائےاور اور غیرجانبدارمیڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے۔

واضح رہے 19 نومبر کو خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو 28 نومبر کو سنایا جائے گا، فیصلہ یک طرفہ سماعت کے نتیجے میں سنایا جائے گا۔

عدالت نے پرویز مشرف کے وکلا کو دفاعی دلائل سے روک دیا تھا اور پراسیکیوشن کی نئی ٹیم مقرر کرنے کا حکم دیا تھا ، نئی ٹیم مقرر کرنے میں تاخیر پر عدالت نے بغیر سماعت فیصلہ محفوظ کیا، عدالت کا کہنا تھا کہ مشرف کے وکیل چاہیں تو 26 نومبر تک تحریری دلائل جمع کرادیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں