The news is by your side.

Advertisement

‘سیوریج لائن خرابی پر عدلیہ، گورنر اور اسپیکر ہاؤسز پر جرمانہ’

پشاور: گلیات میں غیر قانونی تعمیرات اور دریاؤں کے کنارے تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ سیوریج لائن کی خرابی پر عدلیہ، گورنر اور اسپیکر ہاؤسز پر بھی جرمانہ کیا جا چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے لیے ایڈیشنل کمشنر ہزارہ، ڈی جی گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی، اے سی ایبٹ آباد، ڈی سی سوات اور سپرنٹنڈنٹ انجنیئر محکمہ آب پاشی سوات اور اے اے جی سید سکندرحیات شاہ، بابر خان یوسفزئی ایڈوکیٹ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے استفسار کیا کہ گلیات میں بلڈنگز بن رہی ہیں ان کی سیوریج کے لیے کچھ انتظامات ہیں یا نہیں، ایسا نہ ہو کہ عمارتوں کی سیوریج لائنز جنگل میں جا رہی ہوں اور اس سے ماحول متاثر ہو، سیاحت کو فروغ دیں اچھی بات ہے، لیکن ماحول متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

اے سی ایبٹ آباد نے عدالت کو بتایا کہ گلیات میں جہاں پر غیر قانونی عمارتیں یا بلڈنگ بن رہی ہیں ان پر پابندی لگائی گئی ہے اور انھیں سیل کیا گیا ہے۔

ڈی جی گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی رضا علی حبیب نے بتایا کہ جہاں پر بھی سیوریج یا پانی کے پائپ خراب تھے، ان پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے، گورنر ہاؤس اور اسپیکر ہاؤس کے سیوریج پائپ خراب تھے ان کو بھی جرمانہ کیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا بہت اچھا کیا ہے جوڈیشری میں بھی کوئی خلاف وزری کرے تو ان کو بھی جرمانہ کریں۔ ڈی جی نے کہا جوڈیشری کو بھی خلاف وزری پر جرمانہ کیا گیا ہے، خلاف وزری کرنے والوں کو نہیں چھوڑا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کریں گے تو پھر کسی کو مسئلہ نہیں ہوگا، منظور نظر افراد کے ساتھ رعایت کریں گے تو پھر مسائل ہوں گے۔

اے سی ایبٹ آباد نے بتایا کہ ہرنوئی ندی کے کنارے تعیرات کی اجازت ٹی ایم اے اور محکمہ آب پاشی نے دی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹی ایم اے کے کرپٹ افسران کی وجہ سے کام خراب ہے، ٹی ایم اے نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کو اب ٹھیک بھی کرے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ بھی ویسے ہی چھوڑ دے۔

ایڈیشنل کمشنر ہزارہ نے بتایا جھیل سیف الملوک کو صاف کر دیا ہے، جنریٹر بوٹس اور مچھلی کے غیر قانونی شکار پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان نے بتایا کہ دریائے سوات کے کنارے جو بھی غیر قانونی تعمیرات اور مائیننگ ہو رہی تھی اس پر پابندی لگا دی گئی ہے، بونیر میں ماربل سٹی بن رہا ہے اس کے لیے پی سی ون تیار ہے، ایک ہزار کنال زمین بھی حاصل کی گئی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ انجنئیر محکمہ آب پاشی سوات نے بتایا کہ 2010 کے سیلاب کی وجہ سے دریائے سوات کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا دریائے سوات کا جو حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے تو اس کواب ٹھیک کریں، صوبائی حکومت نے دریائے سوات کے لیے 2.5 بلین، دریائے پنجگوڑہ کے لیے 2 بلین اور دریائے کنہار کے لیے 500 ملین روپے جاری کیے ہیں، اب کوئی غیر قانونی کام نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے متعلقہ حکام سے پیش رفت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں