The news is by your side.

Advertisement

پشاور: دو یونیورسٹیوں میں غیرقانونی بھرتیوں کا انکشاف

پشاور : صوابی یونیورسٹی اور ویمن یونیورسٹی صوابی میں غیرقانونی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے، انسپکشن ٹیم نے قائم مقام وائس چانسلر مکرم شاہ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔

انسپکشن ٹیم نے ویمن یونیورسٹی اور صوابی یونیورسٹی کے رجسٹرار کے نام مراسلہ ارسال کیا ہے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ریگولر اور کنٹریکٹ بنیادوں پر ہونے والے تمام بھرتیوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

مراسلہ میں ہدایت کی گئی ہے کہ بھرتیوں سے قبل اسامیوں کی تخلیق اور بجٹ سے متعلق تفصیلات اس کے علاوہ کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

انسپکشن ٹیم کی جانب سے یونیورسٹیز کے رجسٹرار کے نام لکھے گئے مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ گریڈ 18کے افسر کے ذریعے 4دن کے اندر تمام تفصیلات جمع کرکے دی جائیں۔

پشاور یونیورسٹی میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

واضح رہے کہ پشاور کی یونیورسٹی میں5 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا تھا، دستاویزات فراہم نہ کرنے پر ایک ارب17 کروڑ سے زائد نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پشاور یونیورسٹی کی آڈٹ رپورٹ میں5 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں آڈٹ اعتراضات سال 20-2019 پر لگائے گئے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں 5 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کے 52 آڈٹ اعتراضات کیے گئے، دستاویزات فراہم نہ کرنے پر 1 ارب 17 کروڑ سے زائد نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں