site
stats
پاکستان

عائشہ گلالئی کے خلاف نیب خیبرپختونخوا میں ریفرنس کیلئے درخواست دائر

noor zaman

پشاور : پی ٹی آئی کی باغی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کیخلاف نیب خیبرپختونخوا میں ریفرنس کیلئے درخواست دائر کردی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عائشہ گلالئی نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی،احتساب کمیشن انکی کرپشن پرتحقیقات کرے۔

تفصیلات کے مطابق رکن اسمبلی عائشہ گلالئی نے کس منصوبے سے کتنامال بنایا۔ کہاں کہاں گڑ بڑگھوٹالہ ہے، ذاتی معاون ثبوت لے کرنیب پہنچ گئے اور عائشہ گلالئی کے خلاف نیب خیبرپختونخوا میں ریفرنس کیلئے درخواست جمع کرادی۔

درخواست ان کے معاون خصوصی نور زمان اور لکی مروت کے پی ٹی آئی رہنماسلیم خان کیجانب سے جمع کرائی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ عائشہ گلالئی نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی، احتساب کمیشن انکی کرپشن پر تحقیقات کرے۔

اس سے قبل عائشہ گلالئی کے اسسٹنٹ نور زمان کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی کا عمران خان سے کبھی ایس ایم ایس پر رابطہ نہیں تھا، عائشہ گلالئی کئی بار گورنر ہاؤس بھی گئیں اور گورنرہاؤس میں امیرمقام سےبھی ملاقاتیں کیں۔

نور زمان نے کہا کہ عائشہ گلالئی پر لگے کرپشن الزامات پر مجھے بھی سزا ملے تو تیار ہوں، نیب میں ثبوت کے ساتھ درخواست دائر کی ہے، عائشہ گلالئی کےپاس صرف باتیں ہیں اورہمارےپاس ثبوت ہے۔


مزید پڑھیں : عائشہ گلالئی کے ذاتی معاون نے ان کی کرپشن بے نقاب کردی


یاد رہے کہ عائشہ گلالئی کے ذاتی معاون نے عائشہ گلا لئی کی کرپشن کی داستان سناتے ہوئے میڈیا کو ثبوتوں کیساتھ بتایا کہ کس طرح عائشہ گلالئی ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کی۔

عائشہ گلالئی کے ذاتی معاون نورزمان نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عائشہ گلالئی نے مختلف ترقیاتی منصوبوں سے تقریباایک کروڑ روپےیشن لیا جس کے ثبوت موجود ہیں، عائشہ گلالئی نے کونسلرکو ٹکٹ دلوانے کےلئے دس لاکھ روپے میں ڈیل کی۔

نور زمان نے کہنا تھا کہ ، عائشہ گلالئی کے والد سارے مالی لین دین کیا کرتے تھے اور وہ اپنے والد کے ذریعے امیر مقام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں۔ عائشہ گلا لئی کے کمیشن لینے کے تمام ثبوت موجود ہیں، نور زمان نے میڈیا کے سامنے کچھ رسیدیں بھی پیش کیں۔

جس کے بعد خیبر پختونخواہ احتساب کمیشن نے نور زمان کے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top