The news is by your side.

کراچی میں دودھ کی قیمتوں کے تعین کے لیے کمشنر سمیت ضلعی انتظامیہ کے اختیارات چیلنج

کراچی : سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جنید غفار نے دودھ سمیت بنیادی اشیاء ضرورت کی قیمتوں کے کنٹرول کا کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دودھ کی قیمتوں کے تعین کے لیے کمشنر سمیت ضلعی انتظامیہ کے اختیارات کو چیلنج کیا گیا۔

دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جنید غفار نے سماعت سے معذرت کرلی اور مقدمہ دوسرے بینچ میں بھجوانے کیلئے چیف جسٹس کو ارسال کردیا۔

طارق منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ دودھ سمیت دیگر اشیا ضروریہ کی قیمتوں کی جانچ پڑتال اور کنٹرول کا اختیار کمشنر کراچی اور دیگر کو دے دیا گیا ہے ، کمشنر کراچی، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر کو چھاپے مارنے کا اختیار دینا غیر قانونی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ کہ محکمہ بیورو سپلائی اینڈ پرائسز میں 1163 ملازمین کا 65 کروڑ روپے بجٹ رکھا جاتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہوڈنگ اینڈ بلیک مارکیٹنگ ایکٹ میں غیر قانونی زخیرہ اندوزی پر سزاوٴں کا تعین کیا گیا تھا، 1953 میں کراچی ایسنشئیل آرٹیکلز پراسیسنگ پروفیٹینگ اینڈ ہوڈنگ ایکٹ کراچی ڈویڑن کے لئے نافذ کیا مگر عملدرآمد نہ ہوا، گوڈاون کی ریجسٹریشن کے لئے سندھ گوڈاون رجسٹریشن ایکٹ 1996 لایا گیا مگر بے سود ثابت ہوا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ایکٹ کو نافذ کرکے عوام کو زخیرہ اندوزوں سے نجات دلائی جائے، 12 سال پہلے دودھ کی قیمتوں کے تعین اور چھاپوں کا اختیار کمشنر کراچی کو دے دیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ دودھ اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا جس محکمے کی ذمہ داری ہے اس نوٹیفکیشن کے زریعے غیر فعال کردیا گیا ہے۔

یاد رہے عدالت فریقین کو نوٹس جاری کرچکی ہے اور اس حوالے سے ڈی جی بیورو سپلاء، کمشنر کراچی، سیکرٹری قانون اور دیگر سے جواب طلب کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں