The news is by your side.

Advertisement

فائزر کی بوسٹر ڈوز کتنی مؤثر ہے؟ طبی آزمائش کے نتائج جاری

فائزر کرونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز سے متعلق ادویہ ساز کمپنیوں نے طبی آزمائش کے نتائج جاری کر دیے۔

ادویہ ساز کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کا کہنا ہے کہ ان کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز 95.6 فی صد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

ان کمپنیوں نے کرونا وائرس کے لیے اپنے بوسٹر، یعنی ویکسین کے اثر کو تقویت پہنچانے والی تیسری ڈوز کی طبی آزمائش کے نتائج جمعرات کے روز جاری کیے۔

ان کمپنیوں سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 2 ٹیکوں سے حاصل ہونے والے تحفظ کا اثر 6 ماہ کے اندر ماند پڑ جاتا ہے، جب کہ طبی آزمائش میں دیکھا گیا کہ فائزر ویکسین کی تیسری ڈوز ویکسین کی افادیت کو 95.6 فی صد تک بحال کر دیتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی اور یورپی نگران اداروں نے 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد، شدید بیماری کے خطرے سے دوچار افراد اور ملازمت وغیرہ کے ذریعے وائرس کی زد میں آنے والوں کو بوسٹر لگوانے کی اجازت دی تھی۔

مذکورہ کمپنیوں نے 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 10 ہزار افراد پر اس سلسلے میں طبی آزمائش کی، شرکا میں سے نصف کو بوسٹر یعنی ایک اضافی ڈوز دی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دو ڈوز کے بعد تحفظ کی جو سطح حاصل ہوتی ہے، تیسری ڈوز اسے اسی سطح پر بحال کر دیتی ہے، اس کے علاوہ انتہائی متعدی متغیر قسم ڈیلٹا سمیت کووِڈ-19 کی تمام اقسام سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی بہت کم ہو جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں