The news is by your side.

Advertisement

کورونا مریضوں کی اموات کا ذمہ دار کون؟ یورپی یونین کا اہم بیان

برسلز : دنیا کے بیشتر ممالک میں متعدد کورونا مریض فائزر اور بائیوٹیک کی ویکسین لگوانے کے بعد مبینہ طور پر ہلاک ہوگئے تھے جس پر یورپی یونین نے وضاحت جاری کرتے ہوئے شکوک و شبہات کو ختم کردیا۔

اس حوالے سے یورپی یونین میڈیسنز ریگولیٹر کا اپنے وضاحتی بیان میں کہنا ہے کہ فائزر اور بائیوٹیک ویکسین کا ویکسی نیشن کے بعد ہونے والی ہلاکتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین میڈیسنز ایجنسی (ای ایم اے) نے یہ بات ویکسین کے منظر عام پر آنے کے بعد کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد کی ہے۔

ای ایم اے کا کہنا ہے کہ اس نے تمام اموات کا جائزہ لیا ہے جس میں ضیف العمر افراد کی اموات بھی شامل ہیں اور ان کے اعداد و شمار کے مطابق ان مریضوں کی اموات کا کورونا ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسے حفاظت سے متعلق معاملات پر کوئی تشویش نہیں ہے۔

دسمبر میں یورپی یونین کے ویکسینشن کے آغاز کے بعد سے اپنی پہلی حفاظتی اپ ڈیٹ میں ای ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ویکسین کے معروف حفاظتی پروفائل کے مطابق ہے اور اس کے کوئی نئے سائیڈ ایفکٹس دریافت نہیں ہوئے ہیں۔

یورپی یونین واچ ڈاگ نے ابھی تک صرف فائزر اور موڈرنا کی ہی دو ویکسینز منظور کی ہیں جبکہ آسٹرازینیکا کی ویکسین کے حوالے سے فیصلہ جلد متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ناروے، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ اور سوئیڈن سمیت متعدد ممالک میں ایسے لوگوں کی اموات کی اطلاعات ہیں جنہیں فائزر کی ویکسین لگی تھی لیکن ویکسین کا ان اموات سے براہ راست کوئی تعلق سامنے نہیں آیا ہے۔

خاص طور پر ناروے میں33 لوگ ہلاک ہوئے ہیں جن میں وہ ضیف افراد بھی شامل تھے جنہیں ویکسین کی پہلی ڈوز لگی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں