فلپائن میں داعش اورحکومتی فورسز میں جھڑپ‘ 105 ہلاک -
The news is by your side.

Advertisement

فلپائن میں داعش اورحکومتی فورسز میں جھڑپ‘ 105 ہلاک

منیلا: فلپائن کے شہر مراوی میں اہم عمارتوں اور دیگر املاک سے داعش کا قبضہ چھڑانے کے لیے جاری فوجی آپریشن 8 ویں روز میں داخل ہوچکا ہے ‘ تاحال 105 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فلپائن کے شہر مراوی کی گلیاں لاشوں سے اٹ گئی ہیں لیکن انہیں کوئی اٹھانے والا نہیں۔ حکومتی افواج داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر ہیلی کاپٹروں سے میزائل حملے کررہی ہیں اور گلی گلی شدید جھڑپیں ہورہی ہیں۔ متعدد عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

حکومت نے عسکریت پسندوں پر ہتھیار ڈالنے کے لیے زور دیا ہے تاکہ شہر میں پھنسے ہوئے عام شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکے۔ شہر کی 2 لاکھ کی آبادی میں سے اب تک 90 فیصد پڑوسی شہر الیگان منتقل ہوچکی ہے، جہاں حکام نے رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے تاکہ مروای کی جنگ الیگان تک نہ پھیلنے پائے۔

فوجی ترجمان برگیڈیر جنرل ریستیتیو پاڈیلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنگجؤں کو ہتھیار ڈالنے کا موقع دیتے ہیں تاکہ جنگ میں عام شہری ہلاکتوں کو کم کیا جاسکے۔ حکام کے مطابق 2 ہزار سے زائد افراد شہر میں پھنسے ہوئے ہیں اور بمباری میں ان کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔جنگجوؤں نے ایک پادری سمیت دیگر 14 افراد کو بھی مغوی بنایا ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فلپائن میں جاری اس جنگ میں کم از کم 105 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 61 جنگجو، 20 فوجی اور 24 عام شہری شامل ہیں۔ اطلات ہیں کہ جنگجوؤں نے شہر کی دو جیلوں کو توڑ کر قیدیوں کو بھی رہا کردیا جن میں سے بعض قیدی بھی جنگ میں شامل ہوچکے ہیں۔

لڑائی کا آغاز گزشتہ منگل سے ہوا جب دولت اسلامیہ سے منسلک مقامی تنظیموں ابو سیاف اور مورو گروپ کے عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز کو باہر نکال کر مسلم اکثریتی آبادی والے شہر مراوی پر قبضہ کرلیا اور سیاہ جھنڈے لہرا دیے۔

دوسری جانب فلپائینی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کی تعداد صرف 100 ہے جن میں ملائیشیا، انڈونیشیا اور سنگاپور سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔ فلپائنی صدر روڈریگو دوتیرتے نے ملک کے آدھے سے زیادہ حصے میں مارشل لاء نافذ کردیا ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں