The news is by your side.

Advertisement

پھول نگر: جنسی درندے کی کمسن بچی سے مبینہ زیادتی

پھول نگر: ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات نہ تھم سکے، جس کے باعث انسداد عصمت دری آرڈیننس اپنی وقعت کھورہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دلخراش واقعہ ضلع قصور کے شہر پھول نگر کےمحلے ہیڈبلوکی پیش آیا، جہاں ملزم چھ سالہ بچی کو ورغلا کر قریبی کھیتوں میں لے گیا اور ننھی کلی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناڈالا۔

افسوسناک واقعے کے بعد مبینہ زیادتی کا شکار بچی نے گھر والوں کو ماجرا سنایا، جس پر اہل خانہ شدید اشتعال میں آگئے اور انہوں نے ملزم کو پکڑ کر درگت بنانی چاہی مگر عین وقت پر پولیس پہنچی، متاثرہ فیملی نے پہلے پہل ملزم کو پولیس کے حوالے سے انکار کیا تاہم پولیس کے سمھجانے پر ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ مبینہ زیادتی کا شکار بچی کا میڈیکل کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں ملک میں جنسی زیادتی کی سرکوبی کے لئے صدر عارف علوی نے انسداد عصمت دری آرڈیننس دو ہزار بیس کی منظوری دی تھی، آرڈیننس کے تحت جنسی زیادتی کے مقدمات کوجلد نمٹانےکیلئےخصوصی عدالتوں کاقیام عمل میں لایاجائیگا، خصوصی عدالتیں چار ماہ کےاندر جنسی زیادتی کےمقدمات نمٹائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  خانیوال: 16 سالہ لڑکا مبینہ زیادتی کا شکار

آرڈیننس کے تحت وزیرِاعظم عمران خان انسدادِ جنسی زیادتی کرائسس سیلز کا قیام عمل میں لائیں گے، یہ سیل 06 گھنٹے کے اندر اندر متاثرہ افراد کا میڈیکو لیگل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا جبکہ قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مدد سے قومی سطح پر جنسی زیادتی کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے تحت جنسی زیادتی کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے اس عمل کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پھول نگر بھی ضلع قصور کا شہر ہے، قصور شہر میں آج سے تین سال قبل چھ سالہ زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، ننھی بچی کی لاش پانچ دن بعد کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں