site
stats
پاکستان

 پی آئی اے نے مسافروں کا آبِ زم زم گم کردیا

PIA

کراچی: پی آئی اے کے حج آپریشن میں کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش رہی‘ کبھی مسافروں کو ایئرپورٹ چھوڑدیا تو کبھی سامان چھوڑ کرپرواز وطن لوٹ آئی‘ حد یہ ہے کہ مسافروں کا آب ِ زم زم بھی گم کردیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی ایئر لائن کوحج آپریشن کے دوران دس لاکھ ریال سے زائد کا نقصان ہوا ہے، جبکہ پروازیں وقت پر پہنچانے کی کوشش میں کئی بار مسافروں کاسامان ایئرپورٹ پر رہ گیا‘ اس کے بعد بھی پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی رہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے نے عجلت میں حجاج کرام کو وطن پہنچانے کیلئے سامان مطلوبہ پروازوں پر لوڈ نہیں کیا ‘ 75فیصد پروازیں حجاج کرام کا سامان چھوڑ کر روانہ ہوئیں۔حجاج کرام کا سامان کا وزن کئے بغیر متبادل پروازوں کے ذریعے بجھوایا گیا۔

مدینہ سے کراچی آنیوالی پی آئی اے کی پرواز بھی چار سے زائد مسافروں کو چھوڑ کر روانہ ہوئی‘ عجلت میں حجاج کرام کو جہاز میں سوار کرنے کے لیے کوسٹر میں ان کو بورڈنگ پاس دیئے گئے۔

حج آپریشن میں بے قاعدگیاں، سینئر اسٹاف انتظامیہ کے خلاف عدالت پہنچ گیا*

 مدینہ سے کراچی آنیوالی پی آئی اے کی پرواز بھی کوئٹہ کے چار مسافروں کو چھوڑ کر آگئی‘ جس کے سبب مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے کراچی کے راستے کوئٹہ روانہ کیا گیا۔

اس قدر عجلت کا مظاہرہ کرنےکےباوجود حج آپریشن کی پروازیں چالیس منٹ سے لے کر ایک گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہوئیں‘ جدہ سے ملتان آنیوالی پی آئی اے کی پرواز پی کے740ایک گھنٹہ سے زائد تاخیر کا شکا ررہی۔

جدہ سے لائلپور آنے والی پرواز پی کے764ایک گھنٹہ سے زائد تاخیر کا شکار رہی،اس پر مستزاد 55سے زائد مسافروں کا سامان چھوڑ آئی‘ جدہ سے لاہور آنیوالی پی آئی اے کی پرواز پی کے760مسافروں کے سامان کے ساتھ ساتھ زم زم بھی چھوڑ آئی۔ جدہ سے پشاور آنیوالی پی آئی اے کی پرواز پی کے736بھی پانچ سے زائد مسافروں کا سامان اور زم زم چھوڑ آئی

پروازیں مس ہونے ‘ سامان نہ ملنے اور سب سے بڑھ کر آبِ زم زم کی گمشدگی پرمختلف ایئرپورٹس پر حجاج کرام نے پی آئی اے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top