گولن گول منصوبےکےبعد چترال میں کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی‘ وزیراعظم -
The news is by your side.

Advertisement

گولن گول منصوبےکےبعد چترال میں کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی‘ وزیراعظم

چترال: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گولن گول منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں عوام نے درست فیصلہ کرنا ہے اور اگرآپ نے درست فیصلہ کیا تو ترقی کا سفرچلتا رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق چترال میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گولن گول منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گولن گول منصوبے کے افتتاح پرخوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گولن گول منصوبے کے بعد چترال میں کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی اور یہ منصوبہ اتنی بجلی پیدا کرے گا کہ چترال کی بجلی کی ضرورت پوری ہوجائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پورے سال چترال کوبجلی کی فراہمی کی جائے گی اورچترال کے جن دیہات میں بجلی نہیں وہاں بھی بجلی دیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1973میں ذوالفقارعلہ بھٹو نے لواری ٹنل منصوبے کا افتتاح کیا تھا، ہم نےاسے پورا کیا، یہی ہم میں اورتختی لگانے والوں میں فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت چترال سے گلگت کے لیے بھی سڑک بن رہی ہے جس کے بعد چترال سے اسلام آباد کا سفر6 سے 7 گھنٹے کا رہ جائے گا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جولائی میں عوام نے درست فیصلہ کرنا ہے اور اگرآپ نے درست فیصلہ کیا تو ترقی کا سفرچلتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتی وسائل کبھی یہاں تک نہیں پہنچے لیکن آج چترال سی پیک منصوبے میں شامل ہونے جا رہا ہے، اربوں روپے کی سڑکیں بنائی جا رہی ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گیس کےمنصوبے پر بھی بہت جلد کام شروع ہوگا اور یہاں کا گیس کا مسئلہ بھی حل کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ایک درست سمت پرڈال دیا گیا ہے، میاں نوازشریف کی پالیسی کی وجہ سے ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت بحال ہوئی۔

خیال رہے کہ گولن گول ہائیدروپاور پروجیکٹ منصوبے سے 108 میگا واٹ بجلی اگست 2018 تک قومی نظام میں شامل ہوجائے گی جبکہ اس منصوبے کا پہلا یونٹ آپریشنل ہوگیا ہے۔

گولن گول منصوبے کے پہلے یونٹ سے 36 میگاواٹ بجلی چترال اورملحقہ علاقوں کو فراہم کی جائے گی جبکہ منصوبے کا دوسرا یونٹ مارچ اور تیسرا یونٹ مئی میں فعال ہوگا۔

واضح رہے کہ گولن گول ہائیدروپاور پروجیکٹ منصوبے سے سالانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے قومی خزانے کو فائدہ ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں