The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم نااہلی ریفرنس‘ اسپیکر قومی اسمبلی کے فیصلے پرعدالت نے جواب طلب کرلیا

لاہور : ہائی کورٹ نے وزیراعظم کی نااہلی کے ریفرنس کو مسترد کرنے کے سپیکر قومی اسمبلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر وفاقی وزارت ِقانون اور الیکشن کمیشن کودوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی‘ درخواست سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے دائر کی گئی ۔

درخواست گزار کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم میاں نوازشریف پر منی لانڈرنگ‘ دھاندلی‘ اقربا پروری‘ ٹیکس چوری اور ناجائز اثاثے بنانے کے سنگین الزامات ہیں اور پانامہ لیکس میں اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اس لیے وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے ۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کی نااہلی کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھجوایا گیا تاہم سپیکر نے وزیر اعظم کے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے کی بجائے کسی قانونی جواز کے بغیر مسترد کر دیا.انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ریفرنس مسترد کئے جانے کے فیصلے کوکالعدم قرار دیا جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت عدلیہ سپیکر کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتیں لہذا درخواست غیر موثر قرار دے کر مسترد کی جائے۔ سابق اٹارنی جنرل اوروزیر اعظم کے وکیل سلمان بٹ کی جانب سے عدالت میں میاں نواز شریف کا جواب جمع کرایا گیا ۔ 20 صفحات پر مشتمل جواب میں کہا گیا کہ وزیراعظم کے خلاف درخواست کی سماعت ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں ہے نہ ہی عدالتیں وزیراعظم کو طلب کر سکتیں ہیں ۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی پارٹی متاثرہ فریق نہیں یہ ریفرنس صرف ناکام امیدوار ہی سپیکر کو بھجوا سکتا ہے ۔ جواب میں مزید کہا گیا کہ سپیکر کو جو ریفرنس بھجوایا گیا وہ محض اخباری تراشوں پر مشتمل تھا اس میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا جس کی بنا پر سپیکر نے ریفرنس مسترد کیا جو قانون کے مطابق ہے۔

وفاقی وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کی جانب سے جواب داخل کرنے کے لئے عدالت سے مزید مہلت کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی وارت قانون اور الیکشن کمیشن کودوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں