وزیر اعظم عمران خان کی گیس کی قیمت میں اضافہ کی منظوری
The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم عمران خان نے گیس کی قیمت میں اضافے کی منظوری دے دی

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے گیس کمپنیوں کے ٹیرف میں اضافے کی منظوری دے دی اور گیس چوری روکنے کے لئے فوری اقدامات کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق توانائی کے شعبے میں جاری مالی مسائل، گیس چوری اور عدم ادائیگیاں عروج پر ہیں جس کے سبب گیس کمپنیاں شدید مالی بحران کا شکار ہیں، حکومت نے اوگرا کی تجویز کے مطابق گیس کی قیمتوں میں چھیالیس فیصد اضافہ کردیا ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق سوئی سدرن پر ایک سو اڑتالیس ارب اٹھتر کروڑ جبکہ سوئی نادرن پر ایک سو اکہتر ارب روپے کے واجبات ہیں، سیمنٹ،سی این جی ،کھاد، کیپٹو پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کیلئے بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، گھریلو صارفین کیلئے بھی گیس کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گیس چوری روکنے کےلئے جامع پلان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ چوری سے قومی خزانے کو سالانہ پچاس ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں : وزیراعظم عمران خان کی گیس چوری روکنے کے لئے جامع پلان بنانے کی ہدایت

بریفنگ میں وزیراعظم کو بتایا گیا تھا کہ 5 سال میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے نئے بلاکس کی منظوری نہیں دی گئی اور پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہورہا ہے۔

گیس سیکٹر ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دورِ حکومت میں سیاسی بنیادوں پر گیس کی قیمت کو مستحکم رکھا گیا تھا۔

خیال رہے اوگرا نے گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمت تین گنا کرنے جبکہ کمرشل صارفین کیلئے قیمت میں تیس فیصد اضافہ تجویز کیا  تھا اور کہا تھا گیس کی قیمت می کافی عرصے سے اضافہ نہ ہونےکےباعث ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کمپنی کے مالیاتی خسارہ میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے پی ایس او کیلئے دس ارب روپے کے اجراء اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مؤخر کرنے کی منظوری دی تھی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ گردشی قرضوں کا مجموعی حجم گیارہ سو اٹھاسی ارب روپے ہوگیا ہے، جس پر وزیر خزانہ نے تمام متعلقہ محکموں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی تھی اور کہا تھا گردشی قرضوں کے بارے میں فیصلہ آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں