The news is by your side.

Advertisement

جن لوگوں نے عوام کا پیسہ لوٹا ان سےکسی قسم کی ڈیل نہیں ہوگی ، وزیراعظم

ملک کی بہتری کیلئے میں نریندرمودی سے بات کیلئے بھی تیارہوں

باجوڑ : وزیراعظم عمران خان نے کہا جن لوگوں نےعوام کاپیسہ لوٹاان سےکسی قسم کی ڈیل نہیں ہوگی، ملک کی بہتری کیلئےمیں نریندرمودی سے بات کیلئے بھی تیارہوں، بھارت میں الیکشن ہیں آئندہ30 دن دھیان رکھنا پڑےگا۔

تفصیلات کے مطابق باجوڑ میں وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا شانداراستقبال پر باجوڑ کے عوام کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ، 27 سال پہلے باجوڑ آیا تھا، قبائلی علاقے سے متعلق کتاب لکھی تھی، اس وقت سے باجوڑ آنے کی کوشش کررہاتھا، اس وقت حالات مشکل تھے لیکن آج جنون دیکھ پر مجھے خوشی ہوئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا دہشت گردی کےخلاف جنگ میں قبائلی علاقوں کو نقصان پہنچا اور قبائلیوں کا کاروبار، مال مویشی متاثر ہوئے، نقل مکانی کرنی پڑی، ہم سب جانتے ہیں قبائلی علاقوں نے کتنی مشکلات جھیلیں، قبائلی عوام کی آسانی کاوقت شروع ہوگیا ہے اور قبائلی عوام مشکل وقت سےنکل چکے ہیں۔

جنگ نہیں چاہتے ، ہماری امن کی خواہش کوغلطی سے بھی کوئی کمزوری نہ سمجھے

عمران خان نے کہا بھارت میں الیکشن ہیں وہاں کی ایک جماعت نفرتیں پھیلا کرالیکشن جیتناچاہتی ہے، انہوں نے واردات کی ہماری ایئرفورس نے ملک کا  بہترین دفاع کیا، پاکستانی قوم امن چاہتی ہے، ہم سب ہمسائیوں سے امن چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہم یہاں سرمایہ کاری چاہتے ہیں جنگ نہیں، ہماری امن کی خواہش کوغلطی سے بھی کوئی کمزوری نہ سمجھے، بارہا بھارت کو کہہ رہے ہیں جنگ کے بجائے تجارت کریں، ملک کی بہتری کیلئے میں نریندرمودی سے بات کیلئے بھی تیارہوں۔

کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل کرلیں، کشمیر کے لوگوں کی دلیری کو سلام پیش کرتاہوں، وہ لوگ اپنےحقوق کیلئے کھڑے ہیں، بھارت میں الیکشن ہیں آئندہ 30  دن دھیان رکھنا پڑےگا، بھارت کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کی جائےآپ نے چوکنا رہنا ہے اور  پاکستانیوں کو اپنی حفاظت کیلئے تیار رہنا ہے۔

بھارت میں الیکشن ہیں آئندہ30  دن چوکنارہنا پڑےگا

عمران خان کا کہنا تھا کہ باجوڑمیں انٹرنیٹ آناچاہئے، باجوڑ کا نوجوان شعور رکھتا ہے، پہلی کوشش باجوڑ میں انٹرنیٹ پہنچانے کی کریں گے، قبائلی علاقوں میں جنگ کی وجہ سےتباہی ہوئی، اسلام آباد پہنچتے ہی باجوڑ میں انٹرنیٹ پہنچانے کی کوشش کروں گا۔

انھوں نے مزید کہا این ایف سی ایوارڈ سے سارے صوبے اپنے حصے سے 3 فیصد قبائلی عوام کو دیں گے، پنجاب، کے پی میں ہماری حکومت ہے، بلوچستان، سندھ کو کہنا چاہتاہوں آپ کو بھی 3 فیصد فنڈ دیناچاہئے، قبائلی علاقے کے لوگوں نے پاکستان کیلئے قربانیاں دیں۔

این ایف سی ایوارڈسےسارےصوبےاپنےحصےسے3فیصدقبائلی عوام کودیں گے

وزیراعظم کا کہنا تھا بحیثیت مسلمان ہمارافرض ہے پیچھے رہ جانے والوں کی مدد کریں، ویسٹ جرمنی نے ایسٹ جرمنی کو پیسہ دیا وہ کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں، کیا پوری قوم اپنے قبائلی عوام کو اوپر اٹھانے کیلئے 3 فیصد نہیں دے سکتی؟ ہم نے قبائلی علاقوں کو نہ اٹھایاتو دشمن انہیں ملک کے خلاف اکسانے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کریں‌ گے۔

عمران خان نے کہا خدانخواستہ قبائلی علاقوں میں دوبارہ آپریشن کرنا پڑا تو 3فیصد سے بھی بہت زیادہ کرچ کرنا پڑےگا، این ایف سی ایوارڈ میں سے 3 فیصد قبائلی علاقوں پرخرچ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت معاشی طور پر سب سے برا وقت ہے، 60 سال میں ملک کا قرضہ 6ہزار ارب تھا، چارٹر آف ڈیموکریسی کو ہم چارٹرآف کرپشن کہتے ہیں، پی ٹی آئی کی ان سوئنگنگ یار کرنے دو جماعتوں کی 10سال کی پارٹنرشپ توڑی، پچھلے10 سال میں 2 جماعتوں نے ملک کوتباہ کردیا اور ملک کا قرضہ 30 ہزار ارب پر پہنچا دیا، جمہوریت نہیں بڑے بڑے ڈاکو خطرے میں ہیں، جمہوریت کیلئے میں ہرکسی سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

چارٹرآف ڈیموکریسی کوہم چارٹرآف کرپشن کہتےہیں

افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا طالبان سے بات شروع ہوگئی، افغانستان میں اچھی حکومت آئےگی، خطے میں خوشحالی آئےگی، افغانستان میں امن ہوگا، افغانستان ہمارے بھائی ہیں ان سے تو ہماری دوستی ہوعی ہے، ایران ہمارا ہمسایہ ہے، صدر روحانی سے بات ہوئی، ایران سے اچھے تعلقات ہیں مزید اچھے ہوجائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں کروں گا، کبھی کسی کرپٹ کے ساتھ مفاہمت نہیں کروں گا، جن لوگوں نےعوام کا پیسہ لوٹا ان سےکسی قسم کی ڈیل نہیں ہوگی۔

کبھی کسی کرپٹ کےساتھ مفاہمت نہیں کروں گا

انھوں نے کہا 2 این آراوزکی وجہ سےملک نے بہت بھاری قیمت چکائی ہے، اب کوئی این آر او نہیں ہوگا این آر او کی وجہ سے ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب پر پہنچا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے کے 75 فیصد لوگ پیچھے رہ گئے تھے، قبائلی علاقے کے پی میں ضم ہوگئے، اب ہم آپ کی مدد کریں گے، ملک کو گھر  سمجھیں،گھر پر قرضہ چڑھ گیاہے وہ اتارنا ہے، ملک میں سرمایہ لگائیں گے اور قرضہ اتاریں گے۔

ملک کو گھر  سمجھیں،گھر پر قرضہ چڑھ گیاہےوہ اتارناہے

عمران خان نے کہا لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں، قرضے واپس کریں گے، عوام کی تعلیم اور صحت پر پیسہ خرچ کریں گے، لیویز اور خاصہ دار بے فکر ہو جائیں آپ بے روزگار نہیں ہوں گے، آپ کو پولیس میں ضم کریں گے، تنخواہیں بہتر کریں گے، آپ کیلئے بہترین اسٹرکچر لارہے ہیں۔

نوجوانوں کو سستے قرضے دینے کا اعلان

وزیراعظم نے باجوڑ میں روزگاراسکیم کیلئے 2ارب روپے سے نوجوانوں کو سستے قرضے دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا باجوڑ والے تھوڑا صبر کریں آپ کا بجلی کا مسئلہ بھی حل کرتے ہیں، 300 مساجد میں سولر سسٹم لگائیں گے۔

ان کا کہنا تھا قبائلی علاقے میں تعلیم، صحت کے شعبے میں8 ہزار نوکریاں لارہے ہیں اور کھیلوں کیلئے سہولتیں فراہم کریں گے ، اس کیلئے فنڈز جاری کر دیے ، سوات ایکسپریس وے کوٹنل سے منسلک کردیں گے، سیاحت سے بھی روزگار ملےگا، یہاں چھوٹی انڈسٹری کیلئے انڈسٹریل زون بنائیں گے، نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا پروگرام شروع کریں گے۔

نیاپاکستان بن چکاڈیزل کواب بھول جائیں

عمران خان نے کہا باجوڑ کے عوام اور بتائیں آپ کیلئے کیاکریں، نیا پاکستان بن چکا ڈیزل کو اب بھول جائیں، قبائلی علاقوں کا کے پی میں انضمام آسان نہیں ہے ، قبائلی علاقوں میں100سال سے ایک قانون چلتا آرہا ہے، دونوں علاقوں کانظام مختلف ہے تھوڑا وقت لگےگا آپ کو صبرکرناہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تبدیلی آسانی سے نہیں آسکتی تھوڑا وقت لگے گاصبر کرنا پڑےگا، قبائلی علاقےمیں ملک دشمن انتشارکی کوشش کریں گے، دشمن انضمام نہیں چاہیں گےرخنےڈالیں گے، آپ نےدشمن کی ہرسازش کوفیل کرناہے۔

انھوں نے مزید کہا باجوڑمیں صحت کارڈلارہےہیں، ہرگھرمیں ایک صحت کارڈہوگا،کسی بھی اسپتال میں 7 لاکھ 20 ہزار تک کا علاج ہوسکےگا، باجوڑ کے لوگو، انشااللہ آپ کا مستقبل بہت روشن ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں