The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان کی ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا الیکشن کمیشن کاکام صرف الیکشن کرانا ہے لیکن الیکشن کمیشن ای وی ایم پرپروپیگنڈاکرنا شروع ہوگئی ، کل جو ہم کرنے جارہے ہیں ارکان اسے جہاد سمجھیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا ، تحریک انصاف اوراتحادی جماعتوں کے ایم این ایز اور سینیٹرز ظہرانے میں شریک ہوئے۔

وزیراعظم عمران خان نے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جماعت کےاراکین اور اتحادیوں کو خوش آمدید کہتاہوں، سیاست میں آکر لوگ اپنی ذات کیلئے کام کرتے ہیں لیکن میرے سیاست میں آنے کا مقصد پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے قائدین نے ملک کو عظیم مقصد حاصل کرنے کیلئےبنایاتھا، ریاست مدینہ دنیا کا سب سے کامیاب ترین ماڈل ہے، قائداعظم نے صحت کو پیچھے رکھ کر ملک کیلئے جدوجہد کی، قائداعظم کا خواب تھاکہ پاکستان عظیم ملک بنے گا، اسلام کےاصولوں کے بغیر کیسے ملک کھڑا ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حضورﷺنےمدینہ میں ایک ماڈل بنایاتھا، وہ قوم جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی دنیاکی امامت کرائی، جو بھی انسان ریاست مدینہ کے اصولوں پر چلے گا وہ اوپر چلا جائے گا ، اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ حضور ﷺکی زندگی سے سیکھو، حضورﷺ رحمت اللعالمین تھے، جو انسان حضورﷺکے راستے پر چلے گا اوپر جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشرےمیں اخلاقیات ہوں تو ایٹم بم مارکر بھی قوم کو ختم نہیں کیاجاسکتا، جاپان میں2ایٹم بم گرے مگر وہ 10سالوں میں کھڑےہوگئے، بیروت کوہماری زندگی میں ہمیشہ پیرس کہاجاتاتھا، جب اخلاقیات ختم ہوتی ہےتوکرپشن آتی ہے ، وہ انصاف بھی نہیں کرسکتی لیکن جب اخلاقی قوت ہوتی ہے توانصاف کرسکتے ہیں۔

انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی پر ہم نے 126دن کا دھرنا دیا، ہم نے عدالتوں سے چاروں حلقے کھلوائے چاروں میں دھاندلی نکلی، سینیٹ الیکشن سےمتعلق پیسوں کی ویڈیو زآئیں کچھ نہیں ہوا، امیدوار پیسوں کے بیگ بھرتے نظر آئے نہ الیکشن کمیشن نہ حکومت نے کچھ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جوبھی سیاست میں ہے سب کو پتا ہے سینیٹ الیکشن میں کیا ہوتا ہے، سب کو ویڈیوز دکھائی گئیں کہ سینیٹ الیکشن میں لوگ پیسے لے رہے ہیں، لوگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے اور پیسے بیگ میں ڈالے جارہے تھے۔

وزیراعظم نے مزید کہا سپریم کورٹ کہتا ہےویری فائبل ووٹ ہوناچاہئے، تمام اپوزیشن پارٹی اورالیکشن کمیشن نےبھی مانا ، ہم کہتےہیں کہ سینیٹ میں اوپن بیلٹ ہونا چاہئے تاکہ سب کوپتہ چلے، مغرب میں اس طرح کے تصور کاکوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

سینیٹ الیکشن کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کےدورمیں ہمیشہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتارہا، اب پتاچلتاہےکہ اپوزیشن نےاوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی، الیکشن کمیشن خفیہ بیلٹ کی کیوں حمایت کرتی ہے ، اب ای وی ایم مشین کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے، زیادہ تردھاندلی پولنگ ختم اورنتیجےکےاعلان کےدرمیان ہوتی ہے، ای وی ایم مشین کے ذریعے جیسے ہی الیکشن ختم ہوگا نتیجہ آجائےگا۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بار بار کہتے رہے کہ آئیں بتائیں کہ بہترطریقہ کیا ہے، آپ شور مچا رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی توآپ کوئی تجویزبتائیں، اپوزیشن کوڈیڑھ سال سے ای وی ایم پر تجاویز کیلئے کہہ رہےہیں۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا الیکشن کمیشن بھی اپوزیشن جماعتوں کی بنائی ہوئی ہے، ای وی ایم سوچ سمجھ کر لائے تاکہ تنازع ختم ہوجائے، الیکشن کمیشن کا کیا کام تھا جو ای وی ایم پر پروپیگنڈاکرنا شروع ہوگئی ، آج کل الیکشن میں کیا ہوتا ہے ڈبل مہریں لگتی ہیں تھیلےکھلےہوتےہیں، ان سب مسئلے کاحل ای وی ایم مشین ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کاکام صرف الیکشن کرانا ہے مگر اس نے پوری مہم کی ہے ، ای وی ایم سے پاکستان میں الیکشن فری اینڈفیئر ہوجائےگا لیکن افسوس ہےکہ الیکشن کمیشن نےبھی ای وی ایم کیخلاف مہم کی ہے۔

انھوں نے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا سب کو کہنا چاہتا ہوں جب تک اخلاقیات نہیں اٹھائیں گے ترقی نہیں ہوگی، ہمیشہ اخلاقیات اوپرسےڈالی جاتی ہے، کوئی قوم عظیم بن ہی نہیں سکی جس میں انصاف کرنے کی اخلاقی قوت نہ ہو، یہ عمران خان کا ذاتی فائدہ نہیں یہ تبدیلی ہم سب کیلئے ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ہماری آنیوالی نسلوں کیلئے بہتر سسٹم لارہےہیں، یہ پرانےکرپٹ سسٹم کی پیداوارہیں تبدیلی نہیں آنے دیں گے ، ہم سب اس کے ذمہ دارہیں صرف میراذاتی فائدہ نہیں ہوگا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن سےپہلےہمارےبندےکوپیسےآفرہورہےہیں کوئی پوچھنےوالانہیں، آپ کامقابلہ مافیاز سے ہے یہ تبدیلی نہیں آنے دیں گے ، ان کو پتہ ہے یہ تبدیلی ان کےلئے تباہی ہے، اراکین کو کہتاہوں جو ہم کل کرنے جارہےہیں اسے جہاد سمجھیں، اگریہ تبدیلی آگئی تواپوزیشن کبھی الیکشن نہیں جیت سکےگی، آپ یہ جمہوریت کیلئےکررہےہیں جوصاف شفاف سےشروع ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں