The news is by your side.

Advertisement

ٹیکنالوجی پر توجہ نہ دے کر بہت بڑی غلطی کی: وزیر عظم

مالاکنڈ: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہائر، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ٹیکنالوجی پر توجہ نہ دے کر بہت بڑی غلطی کی، انسانوں پر ہم جتنا خرچ کریں گے اس سے ہمارا معاشرہ اوپر جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان مالا کنڈ یونیورسٹی پہنچے جہاں انہوں نے تقریب سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی ساری یونیورسٹیز دیکھ چکا ہوں، دنیا کی ٹاپ یونیورسٹی سے پڑھا ہے۔ میرا خواب ہے نمل یونیورسٹی پاکستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی بنے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کے بڑے اسکالرز کو القادر یونیورسٹی کے بورڈ میں لایا ہوں، القادر یونیورسٹی کی بھی ستمبر میں تکمیل ہونے جارہی ہے۔ القادر یونیورسٹی کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے لوگ اسلامی تعلیمات کو سمجھیں، ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بہت ضرورت ہے، ہم ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گئے۔ انسانوں پر ہم جتنا خرچ کریں گے اس سے ہمارا معاشرہ اوپر جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہائر، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ٹیکنالوجی پر توجہ نہ دے کر بہت بڑی غلطی کی، یورنیورسٹی کی تعلیم لوگوں کو ایک اور معیار پر لے کر جاتی ہے۔ امریکا کے اوپر جانے کی وجہ یہی تھی کہ دنیا میں سب سے زیادہ گریجویٹ وہاں سے نکل رہے تھے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے بڑے ارب پتی یہاں بیٹھے ہیں کہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے، 30 سال ملک کا پیسہ چوری کرنے والوں کو پتہ ہی ان کا پیسہ کہاں کہاں پر ہے۔ ہم شارٹ کٹ کے راستے پر چل کر اپنی زندگی تباہ کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب ہم آئے تو قرضہ دینے کے لیے ملک کے پاس پیسہ نہیں تھا، دوستوں نے ہماری مدد کی اور پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔ پاکستان ڈیفالٹ ہوتا تو روپیہ گرجاتا اور سب کچھ مہنگا ہوجانا تھا۔ اب ڈالر 160 سے 155 پر پہنچ گیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے پچھلے ڈھائی سال میں 3 ہزار ارب قرض پر سود دیا، ہم نے اپنے ڈھائی سال میں 6.2 ٹریلین قرضہ واپس کیا ہے۔ ن لیگ نے 20 ہزار ارب روپے قرضہ واپس کیا اورہم نے 35 ہزار ارب واپس کیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے بنا رہے ہیں جس سے دولت میں اضافہ ہو اور قرضہ واپس کرسکیں، لاہور راوی منصوبے میں پرائیوٹ سیکٹر کی بدولت کئی ہزار پیسہ بنے گا۔ بنڈل آئی لینڈ کے لیے دنیا بھر کے انویسٹرز تیار بیٹھے ہیں۔ 50 سال بعد پاکستان میں دو بڑے ڈیم بنانے جا رہے ہیں، پہلی بار پاکستان میں کم آمدن والے لوگوں کے لیے گھر بنا رہے ہیں۔ سیاحت سے اتنا پیسہ آسکتا ہے جس سے بیرونی خسارہ ختم ہوسکتا ہے۔ 2 سال سوات میں جتنے سیاح آئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ سیاحت پروان چڑھ گئی تو پاکستان کے لوگوں کو باہر نہیں جانا پڑے گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انڈسٹریلائزیشن کے بغیر ملک کبھی اوپر نہیں جا سکتا، 80 کی دہائی میں ملائیشیا صرف ربر اور ٹن ایکسپورٹ کرتا تھا، مہاتیر محمد نے کاٹن انڈسٹری بنائی پھر الیکٹرک انڈسٹری کی طرف توجہ دی۔ پاکستان اب پہلی بار اپنی انڈسٹری کو اوپر اٹھا رہا ہے۔ اللہ نے پاکستان کو اتنی نعمتیں دی ہیں جو لوگوں کو معلوم ہی نہیں۔ بدقسمتی سے زراعت میں پرانے گھسے پٹے طریقے اختیار کر رکھے ہیں۔ اگلے ہفتے نئی زرعی پالیسی لے کر آرہے ہیں جو اکیلے ملک کو اوپر اٹھا سکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں