The news is by your side.

Advertisement

خود کوجمہوری کہنے والے فوج سے کہتے ہیں کہ حکومت گرا دو، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ خود کو جمہوری کہنے والے فوج کوکہہ رہےہیں کہ حکومت گرادو، یہ سارےمافیااپنےمفادات کی جنگ میں کچھ بھی کرنےکوتیارہیں، ان کی کوشش ہے کسی نہ کسی طرح سے یہ حکومت گرادو۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے لودھراں تا ملتان شاہراہ کی اپ گریڈیشن منصوبے کےسنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا جنوبی پنجاب کے تمام ارکان اسمبلی کو مبارکباددیتاہوں، کئی سڑکیں ایسی ہوتی ہیں جس سے معاشی صورتحال بدل جاتی ہیں، جب ہم آئے تو پہلے ہفتے میں شروع ہوگیا تھا کہ کہاں ہے نیا پاکستان ، پہلے ہفتے میں کہاجارہاتھا کہ حکومت ناکام ہوگئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈھائی سال بڑے صبر سے گزارے ہیں، اپوزیشن نے تو تنقید کرنی تھی ان کو پتہ تھا این آراو نہیں ملنا ، ہمیں مسلسل تنقید سنی پڑی ، ایسا تاثر دیا گیا کہ ایک بٹن آن کردیں تو نیا پاکستان بن جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ معاشرے میں تبدیلی بغیر جدوجہد کے نہیں آتی، اسٹیٹس کو ایسا نظام ہے جس میں لوگوں نے پنجے گاڑ لئے ، پنجےگاڑنےوالا اسٹیٹس کو اس نظام سے فائدہ اٹھا رہاہے، جدوجہد کے بغیر تبدیلی نہیں آتی یہ ایسا ہے جیسےانگریزوں سے آزادی لینا، اونچ نیچ آتی رہی مگر1947تک مسلمانوں نے مسلسل جدوجہد کی۔

مافیاز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مافیا سے آزادی ہویا کرپٹ نظام سے یہ ایک جدوجہد کا نام ہے، میں سمجھتا ہوں نظام بدلنے کیلئےپاکستان میں 1947 کے بعد یہ بڑی جدوجہد چل رہی ہے، آج جو پاکستان جدوجہد کررہاہے یہ آئندہ نسلوں کیلئے بہت اہم ہے، پاکستان کی موجودہ جدوجہد قانون کی حکمرانی کیلئے ہے اور قانون کی حکمرانی سے ہی معاشرہ بدلتا ہے۔

وزیراعظم نے قانون کی حکمرانی سے متعلق کہا کہ جب طاقتور قانون کے نیچے آتاہے تو معاشرہ اوپرجاتاہے، جہاں قانون کی حکمرانی ہے وہاں کوئی چینی، قبضہ مافیا نہیں ہے، خود کوجمہوری کہنےوالے فوج کو کہہ رہےہیں کہ حکومت گرادو، یہ سارے مافیا اپنے مفادات کی جنگ میں کچھ بھی کرنے کوتیار ہیں، ان مافیاز کے ملک سے باہر اربوں ڈالر ہیں،ان کی چوریاں سامنے آرہی ہیں ، ان کی کوشش ہے کسی نہ کسی طرح سے یہ حکومت گرادو۔

کوروناصورتحال کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلے کئے ،کوروناصورتحال سے ہمیں اللہ نے نکالا ہے ، کوروناصورتحال میں آج بھارت کی گروتھ منفی 7 ہوگئی ہے، ہم نے کورونا کےدوران معیشت اور لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا میراایمان ہے سب سے مشکل وقت سے ہم نکل گئے ہیں، پاکستان اب وہاں سے سفر شروع کرےگا جب ایشیا میں چوتھے نمبرپر تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلے شوگرملز پیسے نہیں دیتے تھے اب کسانوں کو پیسےلیکر دیئے، کسانوں کو اب وقت پر پیسہ ملا تو ریکارڈ پیداوار ہوئی ، کسان پیسہ بناتاہے تو مے فیئر فلیٹ نہیں لیتا بلکہ اپنی زمین پر لگاتاہے۔

سی پیک کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ چین کیساتھ سی پیک کے اگلے فیز میں جارہےہیں، اسپیشل اکنامک زون کےذریعے ایکسپورٹ کو اوپر لیکر جائیں گے، پہلی بار کوئی حکومت آئی ٹی پر زور دے رہی ہے، ہماری آئی ٹی ایک ایکسپورٹ 90ارب روپے ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کلین انرجی کیلئے ڈیمز بنانے پر زور دےرہےہیں، ماضی میں حکومتیں الیکشن کا سوچتی تھیں ڈیمز کا نہیں، ہم گلوبل وارمننگ سے اپنے ملک آئندہ نسلوں کو بچارہےہیں، نیشنل پارکس ،10ارب درخت اور ڈیمز سب آئندہ نسلوں کیلئے ہیں۔

سیاحت کےفروغ کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کےفروغ کیلئے بہت مواقع ہیں مگرکسی نے نہ سوچا، کورونا میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاحت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ، ویکسین کےذریعے کورونا سے بچاؤ اورسیاحت کو فروغ ملےگا، صرف سیاحت سے ہم اپنے زرمبادلہ کو بڑھا سکتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم سے کہناچاہتاہوں برا وقت نکل گیا ہے اب دولت میں اضافے کا وقت ہے، اب یہ وقت آگے بڑھنے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا وقت ہے، ہم نےکنسٹرکشن انڈسٹری کو سب سے زیادہ مراعات دی۔

ہاؤسنگ منصوبے کے حوالے سے انھوں نے کہا نیا پاکستان ہاؤسنگ کا اصل منصوبہ ابھی پروان نہیں چڑھا کیونکہ ہمارے بینکوں کو چھوٹ لوگوں کو قرضہ دینے کی عادت نہیں تھی، فورکلوژر لا عدالت سے منظور کرایا اب پورا زور نیا پاکستان ہاؤسنگ پر ہے، تنخواہ دار،مزدور طبقہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ اپنا گھر ہوگا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کےتحت لوگ اپنا گھر کرایہ کی صورت میں دیکر بناسکتےہیں، کنسٹرکشن انڈسٹری چلتی ہے تو سب سے زیادہ روزگار بڑھتا ہے، آنیوالے دنوں میں اپنی قوم کو اورخوشخبریاں دیتاجاؤں گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں