مشکل وقت برداشت کرلیں، 2 سال بعد بڑی بڑی تنخواہیں دیں گے ، وزیراعظم
The news is by your side.

Advertisement

مشکل وقت برداشت کرلیں، 2 سال بعد بڑی بڑی تنخواہیں دیں گے ، وزیراعظم

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے اپنے آپ کوتبدیل نہ کیا تو آگے تباہی ہے، تبدیلی اس وقت آئے گی جب سوچ سمجھ کر پیسہ خرچ کیا جائے گا، مشکل وقت برداشت کرلیں، 2 سال بعد تنخواہ دار طبقے کو بڑی بڑی تنخواہیں دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان نے سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا سرکاری ملازمین ہرحکومت کا حصہ رہتے ہیں، آپ لوگوں سے خطاب کا مقصد حقائق اور پاکستان کی معاشی صورتحال سے آگاہ کرنا تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب ڈالر سے بڑھ کر 30ہزار ارب ڈالر ہوگیا ہے، قرضے اتارنے کے لئے پاکستان کو وسائل کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہ بدلے، ہمیں اپنے آپ کوتبدیل کرنا ہے، بیوروکریسی کو تبدیل کرنا ہے،عوام کو اپنی حالت بدلنی ہے، اگر ہم نے اپنے آپ کوتبدیل نہ کیا تو آگے تباہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ملک چلانے کے لئے خزانہ ہی خالی ہے، ماضی کے حکمرانوں نے ایسے قرضے لیے، جن سے نقصان ہورہا ہے، ہم نے قرضے لے کر ایسے منصوبے بنائے، جو نقصان میں جارہے ہیں۔

خزانہ خالی ہے،تیس ہزارارب کے قرضےپرہرروزچھ ارب سوداداکررہے ہیں، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا دنیا میں کوئی چیزناممکن نہیں محنت کی جائے توسب کچھ حاصل کیا جاسکتاہے ، ساری زندگی سنتا رہا کرکٹر نہیں بن سکتا،وزیراعظم نہیں بن سکتا، آج میں آپ کےسامنے کھڑا ہوں،میری زندگی آپ کے سامنے ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسے منصوبے بنائے گئے کہ قرضے لے کر خسارے میں جارہےہیں، ہم آزاد ہوگئے لیکن ہم نے اپنے مائنڈ سیٹ کو ہی تبدیل نہیں کیا۔

انھوں نے مزید کہا ماضی کے لیے گئے قرضوں پر ہر روز 6 ارب کا سود ادا کررہے ہیں، جب سے ملک آزاد ہوا ہے، حکمران طبقے کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہی نہیں ہوا، ہمیں شاہانہ طرز کے مائنڈسیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا حکمرانوں کے شاہانہ طرزکا خرچہ عوام کے پیسوں سے چل رہا ہوتا ہے، سمجھ لیا جائے یہ لوگ ہمارے ہی ہیں تو بہت کچھ بدل جائے گا، ہمیں قرضوں سے جان چھڑانے کے لئے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔

عمران خان نے کہا سوا 3کروڑ بچے اردو میڈیم، 24 لاکھ بچے مدرسوں میں ہیں، تعلیم کے لحاظ سے بھی ہم نے اپنی قوم کو تقسیم کیا ہوا ہے، انگریزوں سے آزادی حاصل کرلی لیکن ان کامائنڈ سیٹ نہیں چھوڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں 500 سے زائد ملازم ، 100 سے زائد گاڑیاں تھیں، ہیلی کاپٹر نیلام کررہے ہیں جبکہ 6 اعلیٰ نسل کی بھینسیں بھی ہیں، تبدیلی اس وقت آئے گی جب سوچ سمجھ کر پیسہ خرچ کیا جائے گا، ہم نے خود کو نہ بدلا تو آگے نہیں بڑھیں گے۔

مشکل وقت برداشت کرلیں، 2 سال بعد تنخواہ دار طبقے کو بڑی بڑی تنخواہیں دیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا چیئرمین نیب سے ملاقات میں کہا سب کا احتساب کریں، احتساب کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا، ماضی میں کرپشن کیلئے پہلے اداروں کو تباہ کیا گیا، اداروں کی تباہی کی وجہ سے کرپٹ عناصر کو کھلا راستہ ملا۔

عمران خان کا کہنا تھا یورپ میں بھی کرپشن ہےلیکن وہاں لوگ ڈرتے ہیں، یورپ میں لوگوں کو معلوم ہے کرپشن کی تو پکڑے جائیں گے۔

انھوں نے کہا سرکاری ملازمین کوئی بھی اچھاکام کریں میں آپ کےساتھ ہوں گا، غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں، مجھ سےبھی بہت غلطیاں ہوئی ہیں، ملک کیلئے کام کریں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گےسرکاری ملازمین چانسز لیں،غلطی ہوگی اس میں کوئی بری بات نہیں، سرکاری افسران ملک کے لیے کام کریں میں ساتھ کھڑا ہوں گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا چاہتے ہیں پاکستان کی بیوروکریسی کوواپس بہترین لیول پرلےکرجائیں، کےپی پولیس کی مثال سامنےہے،ہم نے پولیس میں سیاسی اثرورسوخ ختم کیا، 2013 میں کے پی پولیس پردہشت گرد کے زیادہ حملے ہوتے تھے، کےپی پولیس نےدہشت گردی کیخلاف بہترین جنگ لڑی ، کے پی پولیس کی طرح ملک کے تمام اداروں کو بہترین بنائیں گے۔

انھوں نے کہا کرکٹ کے بعد سب سے زیادہ شوکت خانم اسپتال سے سیکھا، کوئی بھی ادارہ میرٹ پرچلائیں تووہ اوپرآجاتاہے، ہم حکومت میرٹ پرچلائیں گےکسی جگہ سمجھوتہ نہیں ہوگا، 60 کی دہائی میں ہماری بیوروکریسی ایشیا میں سب سے بہترین تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کوئی بھی ہومجھے صرف کارکردگی سےمطلب ہے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں صرف کارکردگی کو دیکھوں گا، آپ کومیں پسندہوں یا نہیں مجھےاس سے کوئی مطلب نہیں۔

وزیراعظم نے کہا ملک میں احتساب ضروری ہے، غلطی اور فنانشل چوری میں فرق ہوتا ہے، احساس ہے بیورو کریٹس اپنی تنخواہ پر گزارنہیں کرسکتے، سمجھتا ہوں بیوروکریٹس پر کس قسم کا دباؤ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مشکل وقت زیادہ دیر نہیں رہے گا، تھوڑا برداشت کریں، قوموں کی زندگی میں اتارچڑھاؤ آتے رہتےہیں، مختلف اوقات کو برداشت کرنا ہوتا ہے، ہماری قوم بہترین ہے، یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔

دو سال میں حالات تبدیل ہوجائیں گے، بہت پیسہ آئے گا،عمران خان

عمران خان نے کہا ہم نے 2سال میں گورننس سسٹم ٹھیک کردیا تو حالات تبدیل ہوں گے، چاہتے ہیں بیورو کریسی میں لوگوں کومیرٹ پراوپرلائیں، جو چیز میرٹ پر چلتی ہے، وہ خود اوپر آجاتی ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا گورننس بہترہوگی توسرمایہ کاری بھی زیادہ ہوگی، بیورو کریٹس فیصلہ کرلیں 2سال ہم نے گزارا کرناہے، 2سال میں حالات تبدیل ہوجائیں گے، بہت پیسہ آئے گا۔

انھوں نے کہا پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے،اللہ نےبہت نوازاہے، ہم نےگورننس ٹھیک کردی تویہ ملک تیزی سے اوپر جائےگا، بیوروکریٹس مشکل میں فیصلے نہیں کرے گا تو آگےنہیں بڑھےگا، مشکل وقت برداشت کرلیں، آگے بہت اچھا وقت آنے والاہے۔

عمران خان کا کہنا تھا گورننس سسٹم 2سال میں ٹھیک کرکے دکھائیں گے، 2 سال بعد تنخواہ دار طبقے کو بڑی بڑی تنخواہیں دیں گے، بیوروکریسی کو تحفظ فراہم کریں گے، سیاسی مداخلت سے بچائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں