منی لانڈرنگ سے باہر گیا پیسہ واپس لانے کیلیے ٹاسک فورس بنائیں گے، عمران خان -
The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ سے باہر گیا پیسہ واپس لانے کیلیے ٹاسک فورس بنائیں گے، عمران خان

اسلام آباد : وزیر اعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی نے کہا ہے کہ جب تک اقتدار میں ہوں کوئی کاروبار نہیں کروں گا، منی لانڈرنگ سے باہر گیا پیسہ واپس لانے کیلیے ٹاسک فورس بنائیں گے، قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اتنے مشکل معاشی حالات نہیں تھے جتنے آج ہیں، گزشتہ دس سال میں جو قرضہ لیا گیا اس کی تفصیلات قوم کے سامنے لائیں گے، پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں، سب سے پہلے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے22سال تحریک اور جہاد میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔

قرضوں کے ساتھ کوئی بھی ملک ترقی کا سفر طے نہیں کرسکتا

ہمیں قرضوں پر سود دینے کے لئے بھی قرضے لینا پڑتے ہیں، روپے کی قدر پر دباؤ بیرون ملک قرضوں کی وجہ سے ہے، پیپلزپارٹی حکومت کےآخری سال کا بیرون ملک ڈالر کا سالانہ قرضہ دو ارب ڈالر تھا۔

پاکستان مقروض قوم بن چکا ہے بچوں پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہیں ہے، ہم اپنے بچوں کو صاف پانی اور روزگار فراہم نہیں کرپاتے،
ہمیں بیرون ممالک سے قرضہ لینے کی بری عادت ہوچکی ہے، قرضوں کے ساتھ کوئی بھی ملک ترقی کا سفر طے نہیں کرسکتا۔

صحت کے مسائل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ5ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں سب سے زیادہ بچے غذائی قلت سے مرتےہیں، پاکستان میں45فیصد بچے ذہنی طور پر مضبوط نہیں ہیں، پاکستان میں45فیصد زندگی میں بچے آگے نہیں بڑھ پاتے۔

سادگی اختیار کی جائے گی

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکمرانی کرنے والوں کے رہن سہن سے آپ سب کو بچانا چاہتا ہوں، پاکستان میں وزیراعظم ہاؤس کے 524 ملازم ہیں، وزیراعظم ہاؤس 1100کینال پر واقع ہے، وزیراعظم کیلئے33بلٹ پروف سمیت 80گاڑیاں ہیں، ہم ان کو نیلام کرکے اس پیسے کو قوم کے استعمال میں لائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہر سطح پر حکومتی اخراجات کم کریں گے، ڈاکٹر عشرت کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنائیں گے، ٹاسک فورس کا مقصد ہوگا کہ ہم اخراجات کیسے کم کریں، وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ ترین یونیورسٹی بنائیں گے، تمام گورنر ہاؤسز میں کوئی بھی گورنر نہیں رہے گا، فیصلہ کریں گے کہ گورنر ہاؤسز سے عوام کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا کرنا ہے؟

بطوروزیراعظم 2ملازم اور 2گاڑیاں رکھوں گا

آپ میری ٹیم بنیں، میں مسائل کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا، وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہائش اختیار کررہا ہوں، سیکیورٹی کے پیش نظر ملٹری سیکریٹری کے 3کمروں والے گھر میں رہوں گا، بطوروزیراعظم 2ملازم اور 2گاڑیاں رکھوں گا، ڈی سیز اور کمشنرز بھی بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں، ایک طرف پوری قوم مقروض اور دوسری طرف صاحب اقتدار شاہانہ انداز میں رہتے ہیں، گورنرز، ڈی سیز اور کمشنرز بھی بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔

سیکریٹریز اور سول انتظامیہ کے پاس بھی بے پناہ مراعات ہیں، وزیراعظم کے بیرونی دوروں65 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے، مغرب میں جانور بھی بھوکے نہیں رہتے وہاں ان کےلئےبھی اسپتال ہیں، ہمارے انسانوں کا حال مغرب کے جانوروں سے بھی برا ہے۔

ملکی معاشی حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری آدھی آبادی دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہے، سوا دو کروڑ بچے اسکولوں میں پڑھنے سے محروم ہیں، بچوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو روزگار کیسے ملے گا، جب تک ہم نے سوچ نہیں بدلی تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔

ایف بی آر کو ٹھیک کرنا میری اولین ترجیح ہوگی

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، ایف بی آر کو ٹھیک کرنا میری اولین ترجیح ہوگی، ایف بی آر میں اصلاحات کے بعد ٹیکس کے پیسے کی حفاظت خود کروں گا،20کروڑ افراد میں سے صرف8لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، پیسے والے لوگ بڑی بڑی گاڑیاں رکھتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے، عوام کو ملک کی غیرت کے لئے ٹیکس دینا ہوگا، غریب لوگوں کے مسائل حل کرنے ہیں، ٹیکس ایسے دینا ہوگا جیسے اللہ کی راہ میں دے رہے ہیں، ہمارے خرچے زیادہ اور آمدنی کم ہے۔

منی لانڈرنگ سے باہر گیا پیسہ واپس لائیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے چوری ہوکر باہر جانیوالا پیسہ واپس لانا ہے، ہر سال پاکستان سے ایک ہزار ارب روپے چوری ہوکر باہر جاتے ہیں، منی لانڈرنگ سے باہر گیا پیسہ واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس بنائیں گے، جس پارٹی کے لیڈر کا پیسہ ملک میں نہیں اسے کبھی ووٹ نہ دینا، جس کے اربوں روپے باہر پڑے ہیں وہ کیسے عوام کی حالت بہتر کرے گا۔

وزیراعظم مزید کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے توجہ دینا ہوگی، ایکسپورٹ انڈسٹری کی بھرپور مدد کریں گے، سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے ان کی تمام مشکلات کو دور کرینگے، اس کے علاوہ چھوٹے سرمایہ کاروں کی مشکلات دور کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

بیرون ملک مقیم  پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں

اوورسیز پاکستانی مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیں، ملک کو اوورسیز پاکستانیوں کی مدد کی ضرورت ہے، کرپشن کے خاتمے کیلئے پورا زور لگائیں گے،  بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں بیرون ملک پاکستانی 20ارب ڈالر بھیجتے ہیں، ان سے اپیل ہے کہ وہ بینکوں کے ذریعے پیسہ بھیجیں، بیرون ملک جیل میں قید پاکستانیوں کی مدد کریں گے، تمام سفارت خانوں سے قید پاکستانیوں کی تفصیلات لی جائیں گی۔

کرپشن کے خاتمے کا عزم 

انہوں نے کہا کہ صاحب اقتدار کرپشن کرتے ہیں تو ادارے تباہ ہوجاتے ہیں، کرپشن کے خاتمے کیلئے اپنا پورا زور لگائیں گے، چیئرمین نیب سے ملاقات کروں گا، نیب کی ہرطرح سے مدد کرینگے، وزارت داخلہ اپنے پاس اسی لیے رکھی ہے کہ اب احتساب کا عمل اب نہیں رکے گا، وزارت داخلہ میرے پاس ہوگی، ایف آئی اے بھی ماتحت ہوگی۔

کوئی بھی سرکاری ملازم کرپشن کی نشاندہی کرے گا اس کو حلال طریقے سے 20سے25فیصد بطور انعام دیا جائے گا، ایف آئی اے کے ذریعے منی لانڈرنگ کا خاتمہ کرینگے، جب کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالیں گے تو یہ سب شور مچائیں گے کہ جمہوریت خطرے میں ہے، محکموں میں کرپشن مافیا بیٹھا ہے جو کرپٹ نظام سے پیسہ بنارہا ہے، تیار ہوجائیں کرپٹ مافیا شور مچائے گا، سڑکوں پر بھی آئے گا، اب یہ ملک بچے گا یا پھر کرپٹ مافیا، ان کا مقابلہ کرنے کو تیار ہوں۔

مجھے ایک بیوہ خاتون نے اپنے خون سے خط لکھا

وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ کے تعاون سے انصاف کے نظام کو بہتر کرینگے، چاہتے ہیں ایسا نظام آئے کہ مقدمات میں ایک سال سے زیادہ تاخیر نہ ہو، مجھے ایک بیوہ خاتون نے اپنے خون سے خط لکھا کہ میرے شوہر کو قتل کیا گیا،خاتون نے بتایا کہ پولیس والے بری نظر سے دیکھتے ہیں کیس میں تاخیر کرتے ہیں، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ کم از کم بیواؤں کے مقدمات جلد سے جلد حل کریں۔ جیلوں میں صرف غریب لوگ ہی نظرآتے ہیں، کمزور طبقے کے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے اسے ختم کرنا ہے یہ میرا عزم ہے۔

مدرسے سے پڑھ کر نکلنےوالا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بہتر تعلیم نہیں مل رہی پرائیوٹ اسکولز میں پڑھانے کیلئے تنخواہ دار طبقہ قربانیاں دے رہا ہے، سرکاری اسکولوں کے معیار کو بہتر بنائیں گے، پرائیوٹ اسکولز سرکاری اسکولز میں ڈبل شفٹ کے ذریعے کلاسز لے سکتے ہیں، ہم مدارس کے بچوں کو نہیں بھولیں گے، مدارس کے پڑھنے والے24لاکھ بچوں کو پیشہ وارانہ تعلیم دینگے،چاہتاہوں مدرسے سے پڑھ کر نکلنےوالا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے۔

سرکاری اسپتالوں کامعیار بہتر کریں گے

وزیراعظم نے بتایا کہ آخری سال میں کے پی کے سرکاری اسپتالوں میں تبدیلی آنا شروع ہوئی، سرکاری اسپتالوں کو مزید ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، سندھ سمیت ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں کامعیار بہتر کریں گے، ساڑھے5لاکھ روپے ہیلتھ انشورس کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلائیں گے۔

بھاشا ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہوگئی ہے،

ملک میں پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی سے لوگ پریشان ہیں ،ایمرجنسی کی صورتحال ہے، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں پانی نہیں ہے، بھاشا ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہوگئی ہے، پانی کی قلت دور کرنے کیلئے منسٹری بنا رہے ہیں، چیف جسٹس نے ڈیمز بنانے کیلئے بہت زبردست اقدام کیا ہے، کسانوں کو بھی پانی کی بچت سے متعلق آگاہی دیں گے، پاکستان کو تیزی سے آگے بڑھنا ہے تو کسانوں کی مدد کرنی ہے، پیداوار میں اضافہ اور خرچے کم کرنے سے ملک کو فائدہ ہوگا، زرعی تحقیق پر توجہ دیں گے، کسانوں کو پیداوار بڑھانے کے لئے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں