The news is by your side.

شہبازشریف کو کسی صورت چیئرمین پی اے سی نہیں بنائیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جو یوٹرن لینا نہیں جانتا اس سے بڑا بے وقوف لیڈرنہیں ہوسکتا، شہبازشریف کو کسی صورت چیئرمین پی اے سی نہیں بنائیں گے، دورہ چین جتناکامیاب رہاکسی وزیراعظم کانہیں رہا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی ، ملاقات میں وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا سپریم کورٹ کےفیصلوں پرمکمل عمل کریں گے، احتساب قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

منی لانڈرنگ کے خلاف اور لوٹی دولت کی واپسی کے لیے مہم کامیابی سے جاری ہے ،

منی لانڈرنگ کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ دبئی میں پاکستانیوں کے15ارب ڈالرکاسراغ لگالیاہے، منی لانڈرنگ کے خلاف اور لوٹی دولت کی واپسی کے لیے مہم کامیابی سے جاری ہے ، لوٹی دولت کی واپسی کے لیےمختلف ممالک سے معاہدے کررہےہیں، برطانیہ،سوئٹزرلینڈسےمعاہدہ ہوچکاہے، معاہدوں سےملک کی دولت واپس لانے میں مدد ملے گی۔

دورہ چین جتناکامیاب رہاکسی وزیراعظم کانہیں رہا، چین کےساتھ معاہدوں کی تفصیل عام نہیں کرسکتے

چین کے دورے سے متعلق وزیراعظم نے کہا دورہ چین توقعات سےزیادہ کامیاب رہا ، ماضی میں کسی وزیراعظم کادورہ چین اتناکامیاب نہیں رہا، دورے کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، چین سے ہر قسم کی امدادمل رہی ہے مطمئن ہیں، چین کےساتھ کیےگئےمعاہدوں کی تفصیل عام نہیں کرسکتے، چین کی امداد سے پاکستان کی ادائیگیوں کاتوازن بہترہوگا اور تجارت وسرمایہ کاری بڑھے گی۔

شہبازشریف کو کسی صورت چیئرمین پی اے سی نہیں بنائیں گے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب پر وزیراعظم ڈٹ گئے اور کہا شہبازشریف کو کسی صورت چیئرمین پی اے سی نہیں بنائیں گے، کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے شخص کو چیئرمین پی اے سی نہیں بناسکتے،شہبازشریف کو چیئرمین پی اے سی بنانے سے دنیا بھر میں مذاق بنے گا۔

نیب کو چھوٹے مقدمات کے بجائے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنا چاہیے

عمران خان کا نیب کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہنا تھا کہ نیب چھوٹے چھوٹےمقدمات میں الجھ چکا ہے ، جس سے کارکردگی متاثرہورہی ہے، نیب کو چھوٹے مقدمات کے بجائے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنا چاہیے۔

سیرت النبیﷺکانفرنس بھرپورطریقےسےمنعقدکی جائےگی

رحمتہ اللعالمین کانفرنس کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا سیرت النبیﷺکانفرنس بھرپورطریقے سے منعقد کی جائے گی، کانفرنس کے افتتاحی سیشن کی صدارت خود کروں گا، کانفرنس میں دنیا بھر سے اسلامی اسکالرز اور علما شرکت کریں گے اور اسلام مخالف بیانیے کا مؤثر جواب دیا جائے گا جبکہ اختتامی سیشن میں صدرعارف علوی شریک ہوں گے۔

جو یوٹرن لینانہیں جانتااس سےبڑابے وقوف لیڈرنہیں ہوسکتا

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حالات کےمطابق یو ٹرن نہ لینےوالاکبھی کامیاب لیڈرنہیں ہوتا، جو یوٹرن لینانہیں جانتااس سےبڑابے وقوف لیڈرنہیں ہوسکتا، تاریخ میں نپولین اورہٹلرنےیوٹرن نہ لےکرتاریخی شکست کھائی، نوازشریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا اور جھوٹ بولا۔

انھوں نے کہا کہ  حکومت اپنے100دن کی تکمیل پرقوم کواعتمادمیں لےگی، تعلیم،صحت،غربت کےخاتمے اور دیگرپروگرام پیش کریں گے، کسی بھی حکومت میں پہلے100دن حکومت کی آئندہ سمت کاتعین کرتےہیں، 100 دنوں میں عوام کو واضح ہوجاتاہےحکومت کی سمت کیاہے ۔

حکومت اپنے100دن کی تکمیل پرقوم کواعتمادمیں لےگی

عمران خان نے کہا  بدقسمتی سےپاکستان میں کبھی جمہوریت کےلئےکوشش نہیں کی گئی، جمہوریت کی بجائےحکمران اقتدارکواپنےمفادات کےلئےاستعمال کرتےرہے، حکمرانوں نےپاکستان سےدولت منی لانڈرنگ کےذریعے بیرون ممالک بھیجی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ  بیرونی امدادکےباوجودبھی ہمارا شمارتیسری دنیا کے ملکوں میں کیاجاتاہے، بدقسمتی سےاب تک ملکی وسائل کااندازہ ہی نہیں کرسکے، حکومت میں آکرمعلوم ہواوسائل کاسہی استعمال نہیں ہوا، تیل،گیس ذخائرمیں سےابتک صرف 6فیصداستعمال ہوا ہے، تیل، گیس کے علاوہ وسائل کی دریافت کے لئے توجہ نہیں دی گئی۔

جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں اداروں کو کمزور کیا جاتا ہے

انھوں نے مزید کہا کہ  جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں اداروں کو کمزور کیا جاتا ہے، ماضی میں حکمران اشرافیہ کی چوری ممکن بنانے کی راہ ہموار کی جاتی رہی ، میرٹ نظر انداز کرکے اداروں پر اپنے من پسند افراد کو تعینات کیا جاتا رہا، اداروں کو کمزور کر کے وائٹ کالر کرائمزکا راستہ ہموار کیا جاتا ہے، وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں اصلاحات کاعمل جاری ہے، نیب خودمختار ادارہ ہے،استعدادکی بنیادپرکیسزانجام کوپہنچانےکاجائزہ لےگا، اس  وقت ملک میں کوئی افراتفری کی صورتحال نہیں، لیڈرحالات و واقعات کومدنظر رکھ کراپنےلائحہ عمل میں تبدیلی لاتاہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومیں محض وسائل سےنہیں بلکہ احساس سے بنتی ہیں، ملک میں موجود غریب طبقے کا احساس ہوناچاہیے، آئندہ چند روزمیں تعلیم،  صحت اورغربت کےخاتمےکیلئےجامع پروگرام دیں گے، مشکل حالات کاسامنا ہےلیکن آئندہ چند ماہ میں واضح تبدیلی نظرآئےگی۔

مشکل حالات کاسامنا ہےلیکن آئندہ چند ماہ میں واضح تبدیلی نظرآئےگی

ان کا کہنا تھا کہ  ہماری جنگ ان لوگوں کیخلاف ہےجوملک کوتباہ کرتےہیں، جب تک حقیقی معنوں میں جمہوریت نہ آئے ملک ترقی نہیں کرسکتا،  2018 الیکشن میں پی ٹی آئی 55 نشستوں پرکم فرق سے ہاری، ہار اور  جیت میں ووٹوں کا فرق محض 3چار ہزارتھا، 14 سیٹیں قومی اسمبلی،40 نشستیں صوبائی اسمبلی کی تھیں، اپوزیشن کوجن نشستوں پراعتراض ہےوہ حلقےکھلواسکتےہیں۔

عمران خان نے کہا کہ  بعض افرادکومعلوم ہےحقائق سامنےآنےپر انکا مستقبل کیا ہوگا ، خیبرپختونخوا میں ایک خاص قسم کی روایت رہی ہے، کسی پارٹی کو  ایک دفعہ منتخب کرنےکےبعددوبارہ موقع نہیں ملتا، عوام نےپی ٹی آئی کودوتہائی اکثریت سے دوبارہ کامیاب کیا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا  تھا کہ  مولانا فضل الرحمان اوردیگرسیاستدان اس لئےشورمچا رہےہیں، انہیں معلوم ہےخیبر پختونخواسےان کاصفایاہوچکا، دیگر علاقوں سے بھی ان کا صفایا ہونے والا ہے۔

چین کادورہ نہایت کامیاب رہامگر یہ وقتی اقدامات ہیں

انھوں نے کہا حکومت کی باگ دوڑسنبھالی مالیاتی خسارے کا سامناتھا، کوشش تھی فوری طورپران مسائل سے نمٹنے کیلئےاقدامات کیےجائیں، سنگین صورتحال کے پیش نظر دوست ملکوں سےمدد لینے کافیصلہ کیا، شکرہے دوست ملکوں کی مددسےوقتی طورپرمسئلے پرقابوپا لیاگیاہے، چین کادورہ نہایت کامیاب رہامگر یہ وقتی اقدامات ہیں،۔

عمران خان  کا کہنا تھا کہ معیشت کی مستقل بہتری کیلئے 4چیزوں پر توجہ مرکوزکرنا ہوگی، برآمدات بڑھانی ہےاورسرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، بیرون ملک سے ترسیلات زر کو بڑھانا ہے، 15 سے 20ارب قانونی طریقوں سےبیرون ملک سےآ رہےہیں، اتنا ہی پیسہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو سہولتیں دے رہے ہیں، اوور سیز پاکستانی بینکوں کے ذریعے اپنا پیسہ ملک بھیجیں ، ملک میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجودہیں، کوشش ہے کہ سرمایہ کاری میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہو۔

اب اندازہ ہو رہا ہے کہ کیوں اقامے کی ضرورت پیش آتی تھی

ان کا کہنا تھا کہ  سب سے اہم منی لانڈرنگ پر قابو پانا ہے، اس وقت تقریباً 10ارب کی منی لانڈرنگ ہو رہی ہے، منی لانڈرنگ پر قابو پانے کے لئے ملکوں سے  معاہدے کر رہے ہیں، بیرون ممالک جمع کی گئی دولت سے متعلق معلومات حاصل کی گئی ہیں، اب اندازہ ہو رہا ہے کہ کیوں اقامے کی ضرورت پیش آتی تھی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ معلومات کے تبادلے کے لئے سوئٹزرلینڈ، برطانیہ،امریکاسے معاہدہ ہوا ہے، دبئی سے بھی اہم معلومات سامنے آئی ہیں، پاور سیکٹر میں 2013میں گردشی قرضہ400ارب تھا، 2018 میں یہ قرض 1200ارب تک پہنچ گیا ہے، گیس کے شعبے میں خسارہ 150ارب ہے،  پی آئی اے  400 ارب  اور  پاکستان اسٹیل 350سے 400ارب کے خسارے میں ہے جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز 14ارب کے نقصان،پوسٹل میں9ارب کا خسارہ ہے، مشکلات پر آہستہ آہستہ قابو پائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں