ڈومور کہنے والے آج مذکرات کے لیے کردار ادا کرنے کا کہہ رہے ہیں: وزیر اعظم
The news is by your side.

Advertisement

ڈومور کا مطالبہ کرنے والے آج افغانستان میں‌ ہماری مدد مانگ رہے ہیں: وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نئی نسل کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کیوں بنا، ڈومور کا مطالبہ کرنے والے آج افغانستان میں‌ ہماری مدد مانگ رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے بلوچستان کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ قوم نظریے سے ہے، نظریہ نہ رہے تو قوم نہیں رہتی.

وزیراعظم نے کہا کہ حضوراکرمﷺنبی الزمان کے ساتھ ساتھ دنیا کے بہترین لیڈر تھے، آپ ﷺ نے وہ سب حاصل کیا، جو دنیا کا کوئی لیڈر حاصل نہیں کرسکا، اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد قانون کی بالادستی ہے، امام اورخلیفہ بھی قانون کے دائرے میں تھے، قانون کے سامنے جوابدہ تھے.

آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ قائداعظم کا علیحدہ ریاست کا فیصلہ درست تھا

وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں خواتین کے شرعی حقوق، جائیداد میں حصے پرتوجہ نہیں دی گئی، نبی کریمﷺکاآخری خطبہ بھی انسانی حقوق سے متعلق تھا، قرآن پاک نےکہا ہے، نبی کریمﷺکی زندگی سےسیکھیں، جو ایک اللہ پر یقین رکھتا ہے، وہ کسی اور کے سامنے جھکنےکا سوچ بھی نہیں سکتا۔

انھوں‌ نے کہا کہ قائداعظم کے نظریہ پاکستان کی بہت مخالفت کی گئی تھی، مگر ان کی ذہانت، عزم اور جدوجہد سے پاکستان بنا، آج ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمان ہیں، جن کا کوئی قائد نہیں، آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر یقین ہوتاہے قائداعظم کا علیحدہ ریاست کا فیصلہ درست تھا، قائداعظم ہمارے سیاسی لیڈراور علامہ اقبال نظریاتی لیڈر تھے.

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جمہوریت میں میرٹ کا نظام ہوتا ہے، ہم جمہوریت سےشروع ہوئے اور بادشاہت کی طرف چلے گئے، مغرب بادشاہت سے شروع ہوا اور جمہوریت کی طرف آیا.

ان کا کہنا تھا کہ مغرب نے اسلام کے اصولوں کو اپنایا، جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہوتا تھا، وہ اتنا زیادہ ٹیکس دیتا تھا، چین نے 30 کروڑافراد کوغربت سے نکالا، بدقسمتی پاکستان میں امیر مزید امیراورغریب غریب ترہوتا گیا.


مزید پڑھیں: وزراء کی کارکردگی، وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کرلیا


ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کہا گیا کہ ہم کسی سپرپاورکے سامنےنہیں جھک سکتے، مگرہمارےاپنے ہی حکمرانوں نے ہمیں جھکنے پر مجبور کیا.

انھوں نے کہا کہ ہم نے سب پر واضح کردیا ہے کہ اب کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے، امن چاہتے ہیں، کل تک جو ہمیں ڈومور کہتے تھے، آج مذاکرات میں کردارادا کرنے کا کہہ رہے ہیں.

انھوں نے کہا کہ اب نہ تو  ہم کسی کی جنگ لڑیں گے، نہ کسی کی ایما پرچلیں گے، ہم سب سے امن چاہتے ہیں، اپنا بھرپور دفاع کر سکتے ہیں، شروع سےکہتا رہا ڈومورنہیں کرنا چاہیے، ہمیشہ کہا، جنگ کسی مسئلےکاحل نہیں مذاکرات کا راستہ ہوناچاہیے.

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان شہروں پرپیسہ لگایا، جس پرپہلے ہی پیسہ لگایا جا چکا تھا، ان شہروں پرتوجہ نہیں دی، جہاں پیسہ لگانےکی ضرورت تھی، یہ فرق ہم نے خود پیدا کیا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں