دھرنا دیں شور کرلیں، این آر او نہیں ہوگا، کرپشن کے خاتمے کے لیے اگلے ہفتے قانون لا رہے ہیں، وزیرِ اعظم -
The news is by your side.

Advertisement

دھرنا دیں شور کرلیں، این آر او نہیں ہوگا، کرپشن کے خاتمے کے لیے اگلے ہفتے قانون لا رہے ہیں، وزیرِ اعظم

لاہور: وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، اس مشکل سے گزرنے اور قرضہ واپس کرنے کے لیے چیزیں مہنگی کرنی پڑے گی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ کل شہباز شریف کو منڈیلا بنتے دیکھا اس لیے پریس کانفرنس کر رہا ہوں، ہمیں ادارے ٹھیک کرنے ہیں، کرپٹ لوگ کرپشن کا پیسا واپس کریں۔ جب سمجھوں گا باہر جانے سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی اس وقت جاؤں گا۔

کرپشن کی نشان دہی پر ریکوری کا 20 فی صد دیں گے: عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صرف 70 ہزار لوگ ٹیکس دیتے ہیں، مہنگائی کے ذریعے عوام ٹیکس دے گی، ہم اتنا پیسا اکٹھا کریں گے کہ ملک میں پیسے کی کمی نہیں ہوگی۔ پاکستان میں تاریخی خسارہ ہے، پیسا ہوتا تو سبسڈی دیتے، اس وقت قیمتیں ہی بڑھیں گی۔ کرپشن کا پیسا ریکور کر کے لوگوں کو ریلیف دے سکتے ہیں۔

انھوں نے واشگاف الفاظ میں کہا ’آپ نے دھرنا دینا ہے تو کنٹینر میں دے دیتا ہوں، اسمبلی میں شور کرنا ہے تو کرلیں، کان کھول کر سن لیں ایک کو بھی نہیں چھوڑوں گا، قوم سے وعدہ کیا ہے، کوئی این آر او نہیں ہوگا، ان لوگوں نے ملک کو بے دردی سے لوٹا، سمجھ رہے ہیں احتجاج کر کے بلیک میل کرلیں گے۔‘

وزیرِ اعظم نے کہا کہ قانون لائیں گے، کرپشن کی نشان دہی پر ریکوری کا 20 فی صد دیں گے، جس طرح کی کرپشن ہے اس کی نشان دہی کرنے والا 2 سے 3 ارب کما سکتا ہے، اسلام آباد میں 300 ارب روپے کی زمین واگزار کرائی، پنجاب میں 2 ہزار ایکڑ زمین پکڑی، جس میں سے ایک سیاست دان 2400 کینال زمین پر قابض تھا، آئندہ ہفتے قانون بنا کر قوم کو خوش خبری دیں گے۔

عثمان بزدار پنجاب میں تبدیلی کا نام ہے: وزیرِ اعظم

عمران خان نے کہا کہ ملک سے باہر 10 ہزار پراپرٹیز پکڑی ہیں جس کی تفتیش کی جا رہی ہے، پچھلے 4 سال میں دبئی میں پاکستانیوں نے 900 ارب روپے کی پراپرٹیز لیں، ہم قرضے لیتے پھر رہے ہیں، 5 سال میں 35 ارب کا قرضہ لیا، منی لانڈرنگ روک لیتے تو ہو سکتا ہے قرضہ نہ لینا پڑتا۔

وزیرِ اعظم نے کہا ’قوم کو بتانا ضروری ہے کہ پچھلے دور میں تجربے کار سیاست دانوں نے ملک کو کہاں چھوڑا ہے، 10 سال پہلے 6 ہزار ارب کا قرضہ تھا، 2013 میں 15 ہزار ارب ہو گیا، ن لیگ کہتی تھی زرداری دور سب سے بد ترین تھا، 2013 سے 2018 تک ملک کا قرضہ 28 ہزار ارب پر چلا گیا، بیرون ملک قرضہ 60 ارب ڈالرسے 95 ارب ڈالر پر چلا گیا، اسپیڈی پنجاب کے تجربہ کار لوگوں نے کیا کیا سب کے سامنے ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار پنجاب میں تبدیلی کا نام ہے، تبدیلی یہ ہے کہ ہمارا وزیرِ اعلیٰ بیرون ملک علاج کے لیے نہیں جا سکتا، کرپشن نہیں کرے گا، ایمان دار آدمی ہے، وقت دیں، آپ کو پتا چلے گا عثمان بزدار سب سے کام یاب وزیرِ اعلیٰ ہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 100 دن میں سیاسی جماعت کو پرکھا جاتا ہے، گاڑی کا راستہ تبدیل کر رہے ہیں 100 دن میں نظر آ جائے گا، منی بجٹ آیا، پالیسیاں اب سے شروع ہوں گی، پالیسیاں بنائیں گے تو آپ کو آہستہ آہستہ تبدیلی نظر آئے گی۔

ہو سکتا ہے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے، ابھی دیگر آپشن دیکھ رہے ہیں، 3 ملکوں سے بات چل رہی ہے کہ وہ اپنا پیسا ہمارے اسٹیٹ بینک میں کچھ عرصے رکھ دیں: وزیرِ اعظم عمران خان

انھوں نے کہا کہ اب تک جو قرضہ چڑھا اس سے ہماری حکومت کا تو کوئی تعلق نہیں، ہو سکتا ہے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے، ابھی دیگر آپشن دیکھ رہے ہیں، 3 ملکوں سے بات چل رہی ہے کہ وہ اپنا پیسا ہمارے اسٹیٹ بینک میں کچھ عرصے رکھ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قرضوں کی صورتِ حال یہ ہے کہ پاور سیکٹر کا قرضہ 1200 ارب روپے ہے، فیس سیکٹر پر 157 ارب کا خسارہ چڑھا گئے، پاکستان اسٹیل ن لیگ کے دور میں بند ہو گئی، 187 ارب قرضہ چڑھا دیا، ریلوے پر 37 ارب، پی آئی اے پر 360 ارب قرضہ ہے۔

نیب میرے ماتحت ہوتا تو کم از کم 50 لوگ جیل میں ہوتے، جو لائن بنا کر بیٹھے ہیں کہ شہباز شریف کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ان کی باری آنے والی ہے: وزیرِ اعظم

عمران خان نے کہا ’پاکستان میں سب موجود ہے، سرمایہ کار آنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، وہ کہتے ہیں کرپشن ختم ہو تو ہم آئیں، بلوچستان کے معدنیات کی قیمت 460 ارب ڈالر ہے، 22 سال سے کہہ رہا تھا پاکستان کا بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ملک سے باہر جانے والا پیسا ریکور کرنے کے لیے ایسٹ ریکوری یونٹ بنایا ہے، 895 پراپرٹیز کی ڈیل منگوالی ہے، 300 لوگوں کو نوٹسز بھیج دیے، نیب میرے ماتحت ہوتا تو کم از کم 50 لوگ جیل میں ہوتے، جو لائن بنا کر بیٹھے ہیں کہ شہباز شریف کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ان کی باری آنے والی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بلدیاتی نظام پر پنجاب، کے پی حکومت سے با ت ہو گئی، سندھ، بلوچستان کو بھی تجویز دیں گے، ہمارا بلدیاتی نظام نیچے سے لوگوں کو اوپر لائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں