The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کے اعلان کردہ ریلیف پیکج سے کتنے شہری مستفید ہوں‌ گے؟

وزیراعظم  عمران خان نے 120 ارب روپے ریلیف پیکج کا اعلان کیا، جس کا 13 کروڑ شہریوں  یا دو کروڑ خاندانوں کو براہ راست فائدہ ہوگا۔

عمران خان نے قوم سے خطاب میں مہنگائی سمیت مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو  پیش کش کی کہ اگر دو خاندان لوٹی ہوئی رقم واپس لے آئیں تو تمام اشیاء کی قیمتیں آدھی کردیں گے۔

120 ارب روپے کے پیکج میں کیا ریلیف ملے گا

وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ پیکج سے عوام کو 6 ماہ تک گھی، آٹا، دال کی قیمتوں میں تیس فیصد رعایت ملے گی۔

علاوہ ازیں چالیس لاکھ خاندانوں کو بلا سود حکومت کی جانب سے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

اس پیکج سے مجموعی طور پر 13 کروڑ شہری مستفید ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک خاندان میں ایک فردکیلئےاسکل ٹریننگ دی جائےگی، 22ہزار نئے چھوٹے کاروباروں ‏کیلئے ہم نے قرضے دیئے اور دو لاکھ لوگوں کو اسکلز ایجوکیشن دےرہےہیں، 60لاکھ اسکالرز شپ اور وظیفے دیں ‏گے جس کیلئے47ارب روپے رکھے ہیں، تعلیم کےذریعے ہم اپنے نچلےطبقےکو اوپر لاسکتےہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ناگزیر

وزیراعظم عمران خان نے عندیہ دیا کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، جو ملک پیٹرول درآمد کرتے ہیں اُن کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہیں۔

انہوں نے قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی شرح کم کی، اگر ٹیکسز نافذ کیے جاتے تو اس سے حکومت کو 423 ارب روپے کا فائدہ ہوتا۔

دیگر فلاحی پروگرام

وزیراعظم نے بتایا کہ  اس پیکج کےعلاوہ احساس پروگرام کےتحت 260ارب روپے کے پروگرام چل رہے ‏ہیں، کامیاب پاکستان کے لیے 1400ارب روپے مختص کیے گیے ہیں، علاوہ ازیں 2کروڑ خاندانوں کوسبسڈی پیکج دیا جائے گا جس سے 13کروڑ افراد ‏مستفیدہوں گے، عوام کو شہروں ‏میں کاروبار،کسانوں کو زمینوں کیلئےبلاسود5لاکھ تک قرضہ دیا جائےگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب تک ہمارے پاس معلومات نہیں تھیں، حکومت کے لیے سبسڈی دینا آسان نہیں تھا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ  پروگرام سے ملک کو فلاحی ‏ریاست بنانے میں مدد فراہم کرےگا۔

اس خطاب میں وزیر اعظم نے سعودی عرب ، یواےای اور چین کا امداد دینے پر شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا کیونکہ ہمارے پاس ڈالر نہیں تھے۔

قیمتیں آدھی

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اپوزیشن سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے کہ بہت مہنگائی ہوگئی ہے دو بڑے خاندانوں سے ‏درخواست ہے 30سال جو پیسہ چوری کیا اس کا آدھا واپس لے آئیں اگر یہ 2خاندان اپنا آدھا پیسہ واپس لائیں ‏توکھانےپینےکی چیزوں کی قیمتیں آدھی کردوں

Comments

یہ بھی پڑھیں