یقین تھا کہ پنجاب اور پختون خوا کے وزرائےاعلیٰ کبھی کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے: وزیر اعظم
The news is by your side.

Advertisement

وزرا کام میں رکاوٹ ڈالنے والے بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی کریں: وزیر اعظم

یقین تھا کہ پنجاب اور پختون خوا کے وزرائےاعلیٰ کبھی کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے

پشاور: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کے قیام کے لئے سیاسی اور روایتی ہتھکنڈے استعمال نہیں کئے.

ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے کے پی کی سو روزہ کارکردگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے دوسری بار پی ٹی آئی کو زبردست مینڈیٹ دیا.

ان کا کہنا تھا کہ پہلے امریکا ڈومور کہتا تھا، آج وہی طالبان سے مذاکرات کے لئے تعاون مانگ رہاہے، پاکستان نے امریکا کی افغان طالبان سے بات کروائی، افغانستان میں امن ہو، تو  پشاور سینٹرل ایشیا میں سرمایہ کاری کاحب بن سکتا ہے، قلعہ بالاحصار کو سیاحت کا مرکز بنائیں گے۔

اب ہمیں یہ ڈر نہیں کسی وزیرکو نکالا تو فارورڈبلاک بن جائے گا

وزیر اعظم عمران خان

انھوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے اربوں روپے الیکشن متاثرکرنے کے لئے خرچ کئے، خوشی ہے کہ لوگوں نے نئی سوچ کو ووٹ دیا.

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ محمود خان ایمان دار، سادہ اور سچےانسان ہیں، ان پرپوراعتماد ہے،عقل مند انسان دیانت دان نہیں تو اس کی عقل کا کوئی فائدہ نہیں، عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانے پر شورمچایا گیا، مگر یقین تھا کہ پنجاب اور پختون خوا کے وزرائےاعلیٰ کبھی کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے.

مزید پڑھیں: ماضی میں سی پیک کے معاملے پر کے پی کے کو اندھیرے میں رکھا گیا: وزیر اعلیٰ محمود خان

عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ محمودخان نے غریبوں کے زبردست شیلٹرہاؤس بنائے، جن کا نام مہمان خانہ رکھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کوئی ایسا قدم یا سوچ نہیں دیکھی، جس سے پاکستان فلاحی ریاست بنے، ماضی میں صرف چھوٹے سے طبقے کےلئے پالیسیاں بنائی جاتی تھیں۔ کبھی کسی کو سسٹم تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں پیسہ غریبوں اور ضرورت مندوں پر خرچ ہوتا تھا،  تمام پاکستانی بچوں کے لئے ایک نصاب پر کام کررہے ہیں، تمام وزرا کو ہر روز دفاتر جانا چاہیے،  مجھے پتا چل جائے گا کہ کون نہیں جاتا، پھر کوئی وزرا یہ نہ کہہ کہ میری وزارت واپس لے لی گئی،  اب ہمیں یہ ڈر نہیں کسی وزیرکو نکالا تو فارورڈبلاک بن جائے گا.

افغانستان میں امن ہو، تو پشاور سینٹرل ایشیا میں سرمایہ کاری کا حب بن سکتا ہے

وزیر اعظم عمران خان

وزیراعظم نے کہا کہ بھینسیں بیچنے پر مذاق اڑایا گیا، قیام پاکستان سے پہلے حکومت کے پیسے کو لوگ اپنا پیسہ نہیں سمجھتے تھے، ٹیکس چوری ، کرپشن کو برا نہیں سمجھاجاتا تھا، بدقسمتی سے آزادی کے بعد ہمارے اپنے لوگوں کواپنا بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کی دیوار توڑنے کے لئے اس لئے کہا کہ عوام کو وہاں جانا چاہیے، عوام اور حکومت کو ایک دوسرے کو اپنا سمجھنا ہے، دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی ایگزون نے 27سال بعد پاکستان آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ معاشرے میں رحم کی حکومت آئی، تو اوپروالے کی برکت سے گیس دریافت ہوگی، سب سےزیادہ خیرات پاکستان دیتا ہے، سب سے کم ٹیکس بھی پاکستان دیتا ہے، اسلام آباد میں ہم نےساڑھے 300ارب روپے کی زمین واگزار کرائی ہے، عوام کی زمین پر بڑے بڑے مافیا نے قبضہ کررکھا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی علاقے کا خیبرپختونخوامیں انضمام کوئی آسان کام نہیں، فاٹا کےعلاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لئے ایمرجنسی لگا رہےہیں، فاٹا میں عوام کو سب سے پہلے ہیلتھ کارڈ دیں گے، فاٹاکا خیبرپختونخوا میں ضم ہونا ایک طویل عمل ہے۔

انھوں نے کہا کہ دو سیکریٹریز منتخب حکومت کے خلاف ہی خلاف کام کررہے تھے، وزرا کام میں رکاوٹ ڈالنےوالے بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی کریں، کوئی منتخب نمائندہ کہے کہ بیوروکریٹس نے اسے کام کرنےنہیں دیا، تو لوگ ڈنڈوں سے ماریں گے۔

انھوں نے کہا کہ تاریخ میں کسی نے پاکستانیوں سے سب سےزیادہ پیسہ اکٹھا کیا، تو میں نے کیا، ہمیں سسٹم ٹھیک کرنے دیں، انشااللہ ملک میں پیسے کی کمی نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ سے کہتا ہوں کہ شہر میں جہاں زمین ہے وہاں پارکس بنائے جائیں، نوجوانوں کے لئے کھیلوں کے میدان کا ہونا بہت ضروری ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ مہمند ڈیم بنا تو پشاور میں پانی کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا، مہمند ڈیم کیلئے پیسہ اکٹھا کررہے ہیں، پاکستانیوں کو صاف پانی کی فراہمی کا پروگرام بنایا ہے،وزیروں سے کہتا ہوں، آپ کا کام دیکھوں گا، آپ کے پاس تین ماہ ہیں، تمام وزیروں کے پاس تین ماہ ہیں، پوری محنت سے کام کرکے دکھائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں