The news is by your side.

پاک فوج اورعوام نے بڑی قربانی کے بعد وزیرستان میں امن قائم کیا ، وزیراعظم

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاک فوج اورعوام نےبڑی قربانی کے بعد وزیرستان میں امن قائم کیا، وقت آگیا ہے کہ ترقی کےلئے نئی سوچ لے کر آئیں، وزیرستان میں لوٹا امن اب کبھی تباہ نہیں ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے شمالی وزیرستان کے دورے کے دوران خطاب کی ویڈیو جاری کردی گئی، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور وفاقی وزرا بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے شمالی وزیرستان میں قبائلی عمائدین سے خطاب میں کہا وزیرستان آکربےحدخوشی محسوس کررہاہوں ، وزیرستان کےعوام کو اعتماد دینے آیا ہوں کہ آپ کا مستقبل روشن ہے، وزیرستان میں موبائل فون سروسزکی بحالی شروع کررہےہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ، وزیرستان میں تعلیم ہوگی تو ہی ترقی ہوگی، کسی بھی علاقے میں امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، پاک فوج اورعوام نے بڑی قربانی کے بعد وزیرستان میں امن قائم کیا۔

عمران خان نے کہا پاکستان کو مدینے کے اصولوں کےمطابق فلاحی ریاست بناناتھا، سب سے بڑا اصول یہ تھا ہمارے اندر رحم ہوتا، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کو آگے لانا ہماری ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہورمیں آج کل کی سردی میں لوگوں کوفٹ پاتھ پرسوتےدیکھا ہے ، لوگوں کوٹینٹ اورکمبل فراہم کرنےمیں کتنازیادہ پیسہ گ سکتاتھا؟ صرف احساس تھا جس کےباعث دیکھتےدیکھتےان کیلئےپناہ گاہیں قائم ہوگئیں، وزیراعلیٰ کے پی نے پشاورمیں بھی جگہ کا انتخاب کرلیا ہے، ایسے منصوبوں کے لئے پیسہ نہیں احساس چاہیئے۔

وزیراعظم نے کہا حکومت نے فیصلہ کیا ہے اپنے نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے، چین نے 70کروڑ لوگوں کوغربت کی لکیر سے اوپر اٹھادیا، چین نے سی پیک کا منصوبہ مغربی چین کو اوپر اٹھانے کے لئے شروع کیا، پاکستان کوچین کی طرزپرترقی کے راستے پر ڈالنا ہوگا۔

وزیرستان میں لوٹا امن اب کبھی تباہ نہیں ہونا چاہیے

عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ غربت میں آگےاورترقی میں سب سے پیچھے رہ گیا، وقت آگیا ہے کہ ترقی کےلئے نئی سوچ لے کر آئیں، وزیرستان میں لوٹا امن اب کبھی تباہ نہیں ہونا چاہیے، قبائلی علاقےمیں امن کے لئے پورا پاکستان آپ کے ساتھ کھڑاہے ، ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو قبائلی عوام کو فائدہ دے گا۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام کے فیصلے آپ کی مرضی سےہوں گے، قبائلی علاقوں میں نئے قوانین کا نفاذ کرنا ہوگا، جو کام کرنے جارہے ہیں، وہ آسان نہیں ہیں، صوبے اپنے حصے کا ساڑھے 3 فیصد قبائلی علاقوں کو دیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا قبائلی علاقوں میں انتظامی خلا پیدا ہورہا ہے ، پرانا نظام ختم ہورہاہے اور نیا نظام ابھی آیا نہیں ہے، جلدازجلد قبائلی علاقوں کا پختونخوا میں انضمام کرنا چاہتے ہیں، انصاف کا نظام مضبوط اور اقتدار نچلی سطح پر منتقل کرنا چاہتا ہوں ، تنازعات کےفیصلےاب تک جرگہ کی جانب سے ہوتے آئے ہیں۔

عمران خان نے کہا خیبرپختونخواہ کی طرزپرقبائلی عوام میں بھی مصالحتی کمیشن قائم کریں گے، مصالحتی کمیشن کے ذریعے سالوں کے کیسز گھنٹے میں حل ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں یونیورسٹی اسپتال اورمیڈیکل کالج بھی قائم ہوگا، پورے قبائلی علاقوں میں صحت کارڈ کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے ، غریب خاندان کوعلاج کے لئے ساڑھے5 لاکھ روپےملیں گے۔

قبائلی علاقوں میں "ٹیلی میڈیسن” کی سہولت شروع کرنے کا اعلان

وزیراعظم نے قبائلی علاقوں میں "ٹیلی میڈیسن” کی سہولت شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ڈاکٹرپشاورمیں بیٹھ کروزیرستان کےعوام کاعلاج کرسکے گا۔

قبائلی عوام کوسستےگھروں کی فراہمی کیلئے ایک ارب روپےپیکج کااعلان

عمران خان نے قبائلی عوام کوسستےگھروں کی فراہمی کیلئے ایک ارب روپےپیکج کااعلان کیا اور کہا گھربنانےکیلئےبلاسودقرضےاورمسجدوں کوسولرسسٹم فراہم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ قطرمیں فٹبال کا ورلڈکپ منعقد ہورہا ہے، ورلڈکپ فٹبال کے دوران پاکستانیوں کو روزگار کے لئے قطر بھیجا جائے گا ، نوکریوں میں سب سے زیادہ حصہ قبائلی عوام کودیں گے، سرکاری ملازمتوں کے لئے بھی قبائلی عوام کا کوٹہ بڑھایا جارہاہے.

وزیراعظم نے کہا کچھ لوگ چاہتےہیں قبائلی علاقوں میں پولیس نہ آئے ، قبائلی علاقوں میں امن تک ترقی نہیں ہوسکتی، یہاں جان کاخطرہ ہواتوسرمایہ کارنہیں آئےگا، امن کےقیام کیلئےپولیس سسٹم کاہوناضروری ہے ، لیویزاورخاصہ داراہلکارفکرنہ کریں سب کونوکریاں ملیں گے، خیبرپختونخوامیں امن آنےپرغربت آدھی ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان کاقبائلی عوام کاکوٹہ سسٹم دگنا کرنےکااعلان

وزیراعظم عمران خان نے قبائلی عوام کاکوٹہ سسٹم دگنا کرنےکااعلان کرتے ہوئے کہا جنوبی پنجاب،بلوچستان اوراندرون سندھ کےعلاقےترقی میں پیچھے رہ گئے، ہماری حکومت پیچھے رہ جانے والےعلاقوں کوترقی کی دوڑ میں آگے لائے گے، ایسا نہیں ہوسکتا ملک میں تھوڑے سے لوگ امیر اور باقی سب غریب ہوجائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں کھیلوں کے لئےمیدان بنارہے ہیں ، قبائلی علاقوں کامکمل سروےکرانےکافیصلہ کیاہے ، قبائلی علاقوں میں گیس کےعلاوہ بے شمارمعدنیات موجودہیں۔

پوری کوشش کر رہے ہیں کہ افغانستان میں امن آجائے

افغانستان کے حوالے سے عمران خان نے کہا پوری کوشش کر رہے ہیں کہ افغانستان میں امن آجائے، پاکستان کوشش کر رہا ہے طالبان اورامریکاکےدرمیان بات چیت کاآغاز ہو، افغانستان میں امن کےقیام سےقبائلی علاقوں میں فرق پڑےگا ، بہت عرصے سے کہتا رہا ہوں کے جنگ کے ذریعےامن نہیں آسکتا، اب سب یہی کہہ رہے ہیں، بات چیت اورمذاکرات سےہی مسئلہ حل ہوگا، دعاہےبات آگےبڑھےاورانتخابات کےبعدافغانستان میں امن ہو۔

خیال رہے عمران خان کا وزیراعظم بننےکےبعدوزیرستان کا پہلا دورہ تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں