The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کا مشترکہ اعلامیہ جاری

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا، اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے ایرانی صدرحسن روحانی کی دعوت پر دورہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر اور سپریم لیڈر اور اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں، دورے کے دوران پاک ایران تعلقات پر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات ہیں، قومی مفادات پر مبنی مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا، اس موقع پر دونوں ممالک کے سربراہان نے علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

اعلامیہ کے مطابق دوطرفہ معاہدوں پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا، دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ پاک ایران بارڈر کا استعمال امن اور دوستی کیلئے بڑھایا جائے گا اور دہشت گردی کی روک تھام کیلئےحکمت عملی بنائی جائے گی، اس کے علاوہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئےحکمت عملی بنائی جائے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سلسلے میں دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کا اہم سیکیورٹی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے، خصوصی سیکیورٹی کمیٹی کا دسواں اجلاس پاکستان میں بلایا جائے گا، اجلاس جون میں اسلام آباد میں ہوگا، جس میں اہم سیکیورٹی حکام شرکت کریں گے۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کا مشترکہ قونصلر کمیشن اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، مشترکہ قونصلر کمیشن کا اجلاس رواں سال جون میں ہو گا، وزیر اعظم کی جانب سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لئے ایرانی اقدامات کا خیرمقدم کیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق بلوچستان میں نیا پاک ایران بارڈ کراسنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو مقامی معیشت کیلئے سازگارثابت ہو گا یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان اورایرانی صدر حسن روحانی کی ملاقات میں ہوا، پاک ایران بارڈر پرمسائل اور چیلنجز کو کم کرنے کیلئے مزید اقدامات کا فیصلہ بھی کیا گیا،دونوں ممالک نے ہائی پاورڈ بارڈر کمیشن اجلاس بلانے پر اتفاق کیا، اجلاس رواں سال مئی میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، ضرورت پڑنے پر پاکستان ایران سے بجلی درآمد کرے گا، بلوچستان میں بجلی کی فراہمی پر پاکستان نے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کیا، دونوں ممالک نے سیاسی، فوجی اورسیکیورٹی حکام کے وفود کےتبادلے پر بھی اتفاق کیا

دونوں ممالک نے تعلیم، سیاحت اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کا عزم کا اظہار کیا، دانشور، فنکار اور آرٹسٹ پاک ایران دورے کریں گے۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ایران میں حالیہ سیلاب سے جانی و مالی نقصان پراظہار افسوس کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشکل وقت میں ایران کی مدد کے لئے تیار ہے، ایرانی حکومت نے مدد فراہم کرنے پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔

اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک میں صحت کے شعبے میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے، باہمی اشتراک سے شعبہ صحت میں تکنیکی سہولتوں کو فروغ دیا جائے گا، پاکستان اور ایران میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا، معاشی، تجارتی اور اقتصادی فروغ کیلئے مشترکہ اقدامات کئے جائیں گے، اس حوالے سے دونوں ممالک کا مشترکہ اکنامک کمیشن کا اجلاس بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، دونوں ممالک کے درمیان اہم علاقائی اورعالمی اموربھی زیربحث آئے۔

اس کے علاوہ ریاستی خود مختاری، عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر بھی گفتگو کی گئی، بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی پرعمل کرنے کی ضرورت پرزور دیا گیا۔

ملاقات میں وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدرحسن روحانی کی افغان امن عمل پربھی بات چیت ہوئی، علاقائی امن، استحکام کےلئے افغانستان میں امن کا قیام ضروری قرار دیا گیا، خطے میں امن کے قیام کے لئے افغان امن مذاکرات اہم ہیں، عالمی برادری کو امن مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاک ایران قیادت نے ہر قسم کی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کی گئی، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششیں قابل تعریف قرار دیا گیا، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے علاقائی اور عالمی تعاون ضروری ہے، خطے میں ہرطرح کی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان اورایرانی صدر نے فلسطینی عوام سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کا آزاد اور خودمختار ریاست کا مطالبہ تسلیم کیا جانا چاہیے، مسلم برادری کے الگ فلسطینی ریاست کے مطالبے کا احترام کیا جائے، دونوں ملکوں نے فلسطین کو آزاد ریاست قائم کرنے میں مدد فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔

شاندار مہمان نوازی پر وزیراعظم نے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدرحسن روحانی کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی، دورے کی تاریخوں کا تعین سفارتی رابطوں کے بعد کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں