The news is by your side.

Advertisement

طبی شعبے کے لئے بڑی خوشخبری

پشاور: طبی شعبے کے لئے بڑی خوشخبری، وزیراعظم نے درآمد کئے جانے والے طبی آلات کو ڈیوٹی فری کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور کے دورے کے موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے آغاز پر وزیر اعظم نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کےاندوہناک واقعے پر دل آج بھی افسردہ ہیں، سولہ دسمبر پاکستان کی تاریخ کا ایسا دن ہےجس نےقوم کو متحد کیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے، پوری قوم متحد ہوئی اور دہشت گردی کو شکست دی۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ تاریخی موقع پر کے پی حکومت کو آج مبارک باد اور خراج تحسین پیش کرتاہوں، کےپی حکومت نے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اسپتال مکمل کیا، اس علاقے میں دل کاکوئی اسپتال نہ ہونا علاقے کے لیےظلم تھا، ایک خصوصی دل کے اسپتال کی بہت ضرورت تھی، ایک مشکل وقت میں وسائل کی کمی کے باوجود اسپتال بنایا۔

تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے اعلان کیا کہ جو طبی آلات پاکستان میں نہیں بنتے ان کو ڈیوٹی فری کردیاجائے، حکومت کی سب سےبڑی ذمےداری عوام کی صحت کی دیکھ بھال ہے، آپ کو ابھی اندازہ نہیں ہےکہ آپ شعبہ صحت میں انقلاب لے آئے ہیں، اس اقدام سے پوراہیلتھ سیکٹر اپنے پاؤں پرکھڑاہوجائےگا، ہیلتھ کارڈکی وجہ سےپرائیوٹ سیکٹر آگےآئےگا،جن علاقوں میں پرائیوٹ سیکٹر نہیں جاتا اب وہاں پرائیوٹ سیکٹر کےاسپتال بنیں گے۔

وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوویڈ کے دوران فنڈز ڈھونڈےاور اسپتال مکمل کیا، جو سہولتیں یہاں ہیں لگتا ہےافغانستان سے بھی لوگ علاج کرانے آئیں گے، شوکت خانم اسپتال میں بھی افغانستان سےلوگ علاج کرانے آتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت کو ادارے کے معیار کاخیال رکھنا ہے، بڑاچیلنج ہوگا کہ ابھی جو ادارے کامعیار ہےاس کو برقرار رکھنا ہے، میں چاہتاہوں کہ سرکاری اسپتال بھی معیار کےبنیں، ایسے سرکاری اسپتال ہوں جو نجی شعبے کے اسپتالوں کا مقابلہ کریں، ہماری کوشش ہےانتظام ٹھیک کیاجائےکہ سرکاری اسپتالوں میں معیاری علاج ملے، غریب سرکاری اسپتال آئےتو اسےفکر نہ ہو کہ اسےمعیاری علاج نہیں ملےگا۔

تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پرائیوٹ اسپتال اس لیےکامیاب ہوتاہےکہ وہاں سزا اور جزا ہوتی ہے، سرکاری اسپتال میں بورڈ بنےجو اسپتال کو نجی شعبےکی طرح چلائے، اسپتال کاانتظام نجی شعبےکےاسپتال کی طرح ہو، یہ نجکاری نہیں ہے، نجی اسپتال میں جو کام نہیں کرتا اسےنکال دیتےہیں، ہم نےسزا اورجزا نہ ہونےپر سرکاری اسپتالوں کامعیارگرتےدیکھا۔

،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ علاج کرانےباہر چلے جاتے تھے، یہ نہیں سوچتے تھےکہ غریب کا کیا ہوگا؟ غریب گھرانے میں بیماری ہو تو پورا گھرغربت کی لکیر سے نیچےچلا جاتا ہے، غریبوں کےلیے علاج دینا یہ ہے ریاست مدینہ کی طرف پہلا قدم ہے، ہم سے کہیں زیادہ امیر ممالک نے بھی اپنےشہریوں کوی ونیورسل ہیلتھ انشورنس نہیں دی، کےپی کے تمام لوگوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کے فیصلےپر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں