The news is by your side.

Advertisement

چین کے ساتھ بہتر تعلقات ہمارے لئے ترقی کا زینہ بنے گا، وزیراعظم

تربت : وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ چین پڑوسی اور بلوچستان کے پاس گوادر ہے، چین کے ساتھ بہتر تعلقات ہمارے لئے ترقی کا زینہ بنے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے عمائدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچستان باقی پاکستان سے پیچھے رہ گیا ، وفاق کو بلوچستان کے ووٹ کی ضرورت نہ ہونا ایک وجہ تھی ، وفاق میں کیونکہ سندھ،پنجاب سے حکومت بنالیتے تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی لوگوں نے اپنی ذات کو فائدہ پہنچایا، ایک ایسے وزیراعظم آئے جس نے بلوچستان سے زیادہ لندن کےدورے کئے ، ایک ایسے صدر بھی آئے جس نے بلوچستان سے زیادہ دبئی کےدورے کئے۔

چین چاہتا ہے کہ سی پیک سے مغربی علاقے کو ترقی دی جائے

عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی دورے یا ووٹ لینے نہیں آیا ہوں ، میراایمان ہے کمزور طبقے کو اوپر لانے تک کوئی بھی قوم ترقی نہیں کرتی ، چین نے 30سال میں 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالااورسپر پاور بن گیا، چین چاہتا ہے کہ سی پیک سے مغربی علاقے کو ترقی دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کبھی بھی کوئی ملک آگے نہیں جاسکتا جب چھوٹا طبقہ امیر ،باقی قوم پیچھے رہ جائے، یہاں آنے کا مقصد یہ نہیں کہ منصوبوں کا اعلان کرکے تالیاں بجا کر چلاجاؤں، بلوچستان کو باقی پاکستان کی طرح اوپر لیکر جانا چاہتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بلوچستان میں آج موجود ہیں مجھے خوشی ہے ، پنجاب حکومت نے یونیورسٹی اور اسپتالوں میں سرمایہ کاری کی ہے، بلوچستان کی محرومیوں کا فائدہ اٹھانیوالے انتشار پھیلاتےہیں۔

ہماری خوش قسمتی ہے کہ چین پڑوسی اور بلوچستان کے پاس گوادر ہے

عمران خان کا کہنا تھا کہ سی پیک کےراستے بلوچستان کی سب سے پہلی کنیکٹوی چین کیساتھ ہوگی ، دنیا کو نظر آرہا ہے کہ چین سب کو پیچھے چھوڑ جائے گا، ہماری خوش قسمتی ہے کہ چین پڑوسی اور بلوچستان کے پاس گوادر ہے۔

انھوں نے چین کی ترقی کے حوالے سے کہا کہ چین کی 2ہزارارب ڈالر ٹریڈ ہے پاکستان کی مشکل سے 25ارب ڈالر ہے، بہترین پالیسیوں کی وجہ سے چین آج دنیا میں معاشی طاقت بن چکا ہے ، چین کےساتھ بہتر تعلقات ہمارے لئے ترقی کا زینہ بنے گا۔

کورونا وبا کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں اسوقت کورونا وائرس کا عذاب آیا ہوا ہے، بھارت کی 73سالہ تاریخ میں معاشی صورتحال بری طرح متاثر ہے۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت ملی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ اور قرضہ تھا، ہم مشکلات سے نکل ہی رہے تھے کہ کورونا آگیا ، اللہ کا شکر ہے جس طرح پاکستان کورونا سے نکلا برصغیر میں کوئی نہیں نکلا۔

کورونا کا دوسراراؤنڈ آرہاہے

ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ قوم سے کہتا ہوں ہمیں پھر سے بہت احتیاط کرنا پڑے گی کورونا کا دوسراراؤنڈ آرہاہے، عوام کو ایس اوپیز پر عمل کرنا اور ماسک پہننا ہوگا، کورونا آیا ،ملک تین ماہ بند کیا ،تقریباً 900ارب ٹیکس کم جمع ہوا۔

نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم بلوچستان میں بھی لیکر آرہے ہیں

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے آئی ٹی سیکٹر سےفائدہ اٹھاسکتے ہیں، بلوچستان کے دوردراز علاقوں انٹرنیٹ سہولت لانا وقت کی ضرورت ہے، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم بلوچستان میں بھی لیکر آرہے ہیں ، حکومتی اسکیم 5فیصد انٹرسٹ پر ہے،جو بھی گھر بنانا چاہتاہےبنا سکتا ہے۔

پچھلے 4ماہ میں پاکستان نے پہلی بار کوئی قرضہ نہیں لیا یہ بڑی کامیابی ہے

عمران خان نے بتایا کہ احساس پروگرام میں کبھی پاکستان میں اتنا پیسہ خرچ نہیں کیا گیا، ہم نے اپنے خسارے کم کئے ، 17سال بعد پاکستان سرپلس ہوا ہے، پچھلے 4ماہ میں پاکستان نے پہلی بار کوئی قرضہ نہیں لیا یہ بڑی کامیابی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سیمنٹ کی فروخت ریکارڈ پر ہے ، سریہ ، گاڑیاں،موٹرسائیکل بک رہی ہیں، بھارت میں یہ حال ہے کہ آج وہاں معیشت بیٹھ گئی ہے ، ساری مشکلات کے باوجود اللہ نے ہم پر کرم کیا ،پالیسیاں کامیاب ہوئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں