The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم آج فنانسنگ فار ڈویلپمنٹ کے اعلی سطحی ورچوئل اجلاس سے خطاب کریں گے

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان آج فنانسنگ فارڈویلپمنٹ کے  اعلیٰ سطحی ورچوئل  اجلاس سے خطاب کریں گے، جس میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش بے پناہ مالی چیلنجوں کے بارے میں اپنے نقطہ نظرسے آگاہ کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا وزیراعظم عمران خان  آج فنانسنگ فارڈویلپمنٹ کے  اعلیٰ سطحی ورچوئل  اجلاس میں شرکت کریں گے ، تقریب کی میزبانی کینیڈا، جمیکا کے وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کریں گے۔

اس اعلیٰ سطح کے پروگرام کی میزبانی کینیڈا ، جمیکاکےوزیراعظ اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کریں گے، اجلاس سے خطاب کے لئے مختلف سربراہان  مملکت کی ایک منتخب تعداد کو مدعو کیا گیا ہے۔

فنانسنگ فارڈویلپمنٹ فنڈزریزنگ ورچوئل اجلاس سے وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ ، فرانس، برطانیہ، ساؤتھ افریقا، جاپان، اٹلی،  جرمنی،  ناروے، سعودی عرب،  آئرلینڈ،  قازقستان کے سربراہان بھی خطاب کریں گے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا خطرہ ان چھ منسلک مالی امور میں سے ایک ہوگا جو اعلی سطحی ایونٹ میں زیربحث ہوں گے جبکہ وزیر اعظم تقریب سے خطاب میں قرض کے مسئلے سے نمٹنے کے ممکنہ طریقوں اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش بے پناہ مالی چیلنجوں کے بارے میں اپنے نقطہ نظرسے آگاہ کریں گے۔

یاد رہے اپریل میں وزیراعظم عمران خان نے کرونا سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترقی پذیر ملکوں کو یہ فکر ہے کہیں غریب بھوک سے نہ مرجائیں، ترقی پذیر ملکوں میں لاک ڈاون کی وجہ سے بھوک کے مسائل سے بھی نمٹنا ہے،ترقی یافتہ ملکوں میں کورونا کو وائرس کی روک تھام اور معیشت سےنمٹنا ہے۔

بعد ازاں ترقی یافتہ ممالک کے گروہ جی ٹوینٹی نے پاکستان سمیت 76 ممالک پر واجب الادا قرضے مؤخر کرنے کی منظوری دے دی ہے، ان ممالک پر رواں سال یکم مئی سے 31 دسمبر تک واجب الادا قرضے مؤخر کیے گئے ہیں، یہ ادائیگیاں اب جون 2022 سے 2024 کے درمیان کرنا ہوں گی۔

قرضوں کی ادائیگی کو مؤخر کرنے کا مقصد ترقی پذیر ممالک کی کرونا کی وبا سے پیدا ہونے والے صحت اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے میں مدد کرنا ہے، یہ سہولت ان ممالک کو ملے گی جو عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے تحت قرضوں میں ریلیف کے اہل ہیں، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں