The news is by your side.

Advertisement

کرونا وبا کی تیسری لہر خطرناک، وزیراعظم کی قوم سے بڑی اپیل

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کرونا وبا کی تیسری لہر پر عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگ کرونا وبا کی بالکل پرواہ نہیں کررہے، تیسری لہر پھیل گئی تو برا اثر پڑے گا اور ہم قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان آج ایک بار پھر عوام سے براہ راست مخاطب ہوئے اور عوام سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، وزیر اعظم سے عوام کی بات چیت ٹی وی، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا پر براہ راست نشر کی گئی۔

عوام سے مخاطب ہونے سے قبل اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کرونا کی تیسری لہر بہت خطرناک ہے، جیسے کرونا کی لہر یورپ اور امریکا میں آئی، پاکستان اللہ کے شکر سے ابھی تک محفوظ ہے، ورنہ مشکلات بڑھ جاتیں، ہمیں اللہ کا شکر اداکرنا چاہیے جس نے ہمیں مشکل وقت سے بچایا، اللہ نے پاکستان پر خاص کرم کیا اور ہمیں اس وبا سے بچایا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یورپ میں ویکسین لگانے کے باوجود لاک ڈاؤن کردیاگیا ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کروناکی تیسری لہر کب تک چلےگی، لوگوں سے کہتا ہوں کہ جہاں بھی جائیں ماسک ضرور پہنیں، دنیا جان چکی ہےکہ ماسک سے ہی سب سے زیادہ فائدہ ہے۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کئے بغیر اپنے لوگوں کو بچارہےہیں، لاک ڈاؤن لگاتے تو سب سے زیادہ غریب متاثر ہوتے ، ہم صرف تھوڑی پابندی لگا رہےہیں تاکہ اس وبا سے بچا جائے، کرونا کے باعث دنیا میں 15کروڑ لوگ ایک سال میں غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں، اپنے لوگوں کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم نے ساتھ ہی کہا کہ خدا نخواستہ کرونا زیادہ پھیلا تو لاک ڈاؤن پر مجبور ہونگے۔

ہائیرایجوکیشن میں بڑی تبدیلی کا اعلان

عوام سے براہ راست گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ہائیرایجوکیشن میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہائیرایجوکیشن میں بڑی تبدیلی کرنے لگے ہیں، قومیں ہائیر ایجوکیشن سے اوپر جاتی ہیں، عمارت بنانے سے یونیورسٹی نہیں بن جاتی، معیاری تعلیم کیلئے اعلیٰ پروفیسرز ہوں تو یونیورسٹی کا فائدہ ہوتاہے۔

انشااللہ عوام کو مہنگائی پر قابو پاکر دکھائیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اب تک ہماری صرف اور صرف توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں ہے، انتظامی طورپر مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے اپنا کردارادا کررہےہیں، مہنگائی کی کیا وجہ ہے اس پر ایک سال سے پورا کام ہورہاہے، کیونکہ کسان چیز مارکیٹ میں بیچتا ہے جب عوام تک پہنچتی ہے تو بہت فرق آجاتاہے، انشااللہ عوام کو ہم مہنگائی پر قابو پاکر دکھائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیزل مہنگا ہوتو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے جس کے باعث دیگرچیزوں پر اثرپڑتا ہے، 70فیصد گھی کیلئے استعمال ہونیوالا تیل ہم امپورٹ کرتے ہیں،افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کےباوجود دالیں امپورٹ کرتاہے، ملک میں آبادی بڑھتی گئی گندم میں بھی خسارہ آگیا بارش بھی غلط ٹائم پر ہوگئی ،جس کا نتیجہ نکلا کہ ایک سال کے اندر ہمیں 40لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرناپڑی۔

چینی مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے کا اعلان

عوام سے براہ راست گفتگو میں وزیراعظم نے ایک بار پھر چینی مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھائی جاتی ہیں، جس سے لوگوں کا خون چوسہ جاتاہے، مافیاز ذخیرہ اندوزی کرتےہیں جس سے مہنگائی بڑھتی ہے، ملک میں چینی موجود ہوتی ہے مگر قیمتیں اوپر جانا شروع ہوجاتی ہیں، آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم ہر وقت اس پر کنٹرول کررہےہیں۔

ہیلتھ سسٹم کو نیشنلائز کرنا بہت بڑی غلطی قرار

وزیراعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست مخاطب پاکستان کے ہیلتھ سیکٹر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہیلتھ سیکٹر میں بڑا انقلاب ہیلتھ کارڈ سے آرہاہے جو پاکستان بدل دےگا، حکومت اسپتال بنانےکیلئےسرکاری زمینوں پر پرائیویٹ سیکٹر کو دعوت دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس ہر خاندان کے پاس ہوگی، جس کی مدد سے ہر خاندان ہیلتھ سے 10لاکھ روپے تک علاج کراسکتاہے، یقین دلارہا ہوں ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح نہیں ہے، ہیلتھ کارڈ کے باعث پرائیویٹ سیکٹر کے اسپتال بھی چھوٹے جگہوں پرجانے لگے ہیں، انشااللہ آنیوالے دنوں میں اسپتالوں کا نیٹ ورک بنےگا۔

وزیراعظم نے ہیلتھ سسٹم کو نیشنلائز کرنے کے عمل کو بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ ڈاکٹرز لوگوں سے زیادہ پیسے لے رہے ہیں یہ چیزیں سامنے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں