The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان نے پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس طلب کرلیا

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس آج طلب کرلیا ہے ، جس میں قانونی ٹیم عدالتی فیصلے سے متعلق ترجمانوں کوبریف کرے گی جبکہ ترجمانوں کوپارٹی گائیڈ لائن دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس آج شام پانچ بجے طلب کرلیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوگا، اجلا س میں سیاسی اورمعاشی صورتحال کا جائزہ لینے سمیت عدالتی فیصلے سےمتعلق قانونی ٹیم ترجمانوں کوبریف کرے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم ترجمانوں کوپارٹی گائیڈ لائن دیں گے اوراجلاس میں پارٹی بیانیہ تشکیل بھی دیا جائے گا۔۔

گذشتہ روز وزیراعظم کی عدم موجودگی وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اوراتحادی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا تھا ، جس میں پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم اورعدلیہ کےفیصلوں پرمکمل اعتمادکااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ نےہمیشہ ملک کی ترقی اورپلرآف اسٹیٹ کاکرداراداکیا۔

اسلام آباد میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پارٹی کے بعض ارکان نے قانونی ٹیم پرتحفظات کا اظہار کیا تھا، پارٹی کے متعدد ارکان نے لیگل ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ قانونی ٹیم عدالتی کارروائی سے متعلق درست تیاری نہ کرسکی، لہذا سیکرٹری قانون سمیت غفلت برتننے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں : سپریم کورٹ نے آرمی چیف سے متعلق قانون سازی کیلئے حکومت کو پارلیمنٹ کا پابند کر دیا

اجلاس میں عدالتی فیصلےکی روشنی میں قانونی سازی فوری شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، عامرڈوگر کا کہنا تھا کہ قانون سازی کےذریعےآرٹیکل243میں ابہام دورکیاجائےگا۔

یاد رہے سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کرتے ہوئے قانون سازی کیلئے معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے یقین دلایا 6 ماہ میں اس معاملےپرقانون سازی ہوگی، 6 ماہ بعداس سلسلےمیں کی گئی قانون سازی کاجائزہ لیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق قانون سازی کے لئے حکومت کو پارلیمنٹ کا پابند کر دیا اور کہا ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے 6 ماہ میں آرٹیکل 243 کی وسعت کا تعین کیا جائے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں