وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی نمائندے پر اعتراض اٹھا دیا -
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی نمائندے پر اعتراض اٹھا دیا

اسلام آباد : شریف خاندان کے پاناما جے آئی ٹی کی تحقیقات پر قانونی وار، وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی نمائندے پر اعتراض اٹھادیا، ٹیم کی تشکیل کے وقت آئی ایس آئی کا نمائندہ اپنےادارے میں افسر نہیں تھا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش پراعتراضات سے بھری درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرادی، پاناما جے آئی ٹی کے خلاف اعتراضات کی درخواست میں آئی ایس آئی نمائندے کی شمولیت پر بھی شکوک کا اظہار کردیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے ٹیم تشکیل کے وقت آئی ایس آئی کا نمائندہ اپنے ادارے میں افسر نہیں تھا، تعیناتی کا انکشاف بطور سروس کیا گیا۔

وزیراعظم کی اعتراضی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سروس ایمپلائی کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، سرکاری دستاویزات میں نمائندے کی تنخواہ کا بھی ذکر نہیں، بلال رسول کے پی ٹی آئی اورق لیگ سےقریبی تعلقات ہیں، عامر عزیز مشرف دور میں حدیبہ پیپرز ملز کی تحقیقات کرتے رہے، جبکہ نیب کے نعیم منگی کی تعیناتی پر بھی سوالیہ نشانات ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران جے آئی ٹی کا رویہ جانبدارانہ اور غیر منصفانہ رہا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے کزن کی قانونی فرمز کی خدمات حاصل کیں، فرم کی خدمات لیتے وقت متعلقہ حکومتوں کی اجازت نہیں لی گئی گواہان پر مرضی کے بیان کیلئے دباؤ ڈالا گیا، نتائج غیر تصدیق شدہ دستاویز اور زبانی معلومات سے اخذ کیے گئے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز کا کیس لاہور ہائیکورٹ ختم کر چکی، حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے یا تحقیقات کا حکم نہیں دیا گیا، جے آئی ٹی کا زیرِ التوا مقدمات پر آبزرویشن دینے کا مینڈیٹ نہیں تھا، شفاف تحقیقات کے بغیر فیئر ٹرائل نہیں ہوسکتا، جےآئی ٹی کی تحقیقات میں قانونی تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا، جےآئی ٹی نے دستیاب ریکارڈ پر جرح نہیں کی۔

پاناما جے آئی ٹی کے خلاف اعتراضات کی درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نامکمل ہے، جے آئی ٹی نے تحقیقات کیلئے6 دن زیادہ لیے، جےآئی ٹی کو مزید دستاویز پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جے آئی ٹی نے دستاویزات پر فریقین سے وضاحت نہیں مانگی، جے آئی ٹی وزیراعظم کیخلاف ٹھوس ثبوت حاصل نہیں کرسکی۔

درخواست میں حکومت نے جلد نمبر دس کی دستیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جےآئی ٹی رپورٹ کی جلدنمبر10پبلک نہ کرنا بدنیتی ظاہرکرتا ہے، کیس چلانے سے پہلے جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر 10دی جائے تاکہ جلد نمبر10کی فراہمی کے بعد وزیراعظم مؤقف پیش کرسکیں گے، جلدنمبر10فراہم نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت اعتراضات کی روشنی میں جے آئی ٹی رپورٹ کاجائزہ لے، جے آئی ٹی رپورٹ پر کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں