site
stats
اہم ترین

کشمیر میں بھارتی ظلم کے شواہد فراہم کریں گے، اقوام متحدہ تحقیقات کرے، وزیراعظم

نیویارک: وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا جس کے بعد بھارتی افواج نے انسانیت سوز ظلم کا بازار گرم رکھا ہوا ہے جس کے شواہد اقوام متحدہ کو فراہم کیے جائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کیا۔ میاں محمد نوازشریف کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کی خاطر بھارت سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم انڈیا کی جانب سے ہر بار شرائط لگا دی جاتی ہیں جس کے باعث مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’بھارت اپنی شرائط ختم کرکے مذاکرات کی میز پر آسکتا ہے جس کے لیے ہم ہروقت تیار ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور مذاکرات نہ ہونے کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان حریت لیڈر برہان وانی کی دوران حراست ہلاکت کے بعد کشمیریوں میں آزادی کا جذبہ بڑھ گیا ہے جس کے بعد سے قابض فوجیوں نے گزشتہ کئی روز سے علاقے میں کرفیو نافذ کیا ہوا ہے، بھارتی افواج نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہیں جس کی وجہ سے کئی افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں‘‘۔

پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف بہت اہم ہے، چینی وزیر اعظم، نوازشریف سے ملاقات

میاں محمد نوازشریف کا کہنا تھا کہ ’’کشمیری عوام 70 سال سے آزادی کی خواہش رکھتے ہیں تاہم نئی نسل نے اس جدوجہد کو مزید تیز کردیا ہے مگر بھارت کشمیریوں کی امنگوں کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کشمیریوں کے اظہار آزادی کا حامی ہے۔ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلے سے موجود ہیں مگر اس پر سب نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے‘‘۔

وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ’’ہم امن کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں مگر پڑوسی ملک کے جنگی جنون کو نظر انداز نہیں کرسکتے ، پاکستان کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کے لیے ہرگھڑی تیار ہے اگر ہم پر زبردستی جنگ مسلط کی گئی یا حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور دفاع کیا جائے گا‘‘۔

مزید پڑھیں:   وزیر اعظم پاکستان اور ترک صدر کی امریکا میں ملاقات

نوازشریف نے کہا کہ ’’اگر بھارت خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو آج میں اقوام متحدہ کے توسط سے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو حل کریں اور ایٹیمی تجربات سمیت تمام معاہدوں پر بیٹھ کر معاملات طے کریں‘‘۔بھارت کو مذاکرات سے قبل کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرنا ہوگا اور جیل میں قید تمام کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ انصاف کی عدم موجودگی کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا، دہشت گرد تنظیم داعش پوری دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے، دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان جاری رسہ کشی کے باعث اب دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکی ہے تاہم پاکستان نے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بچنے کے لیے آپریشن ضرب عضب کی ابتداء کی‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

آپریشن ضرب عضب کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم کا کہناتھا کہ ’’پاکستان سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار رہا ہے تاہم دنیا کا سب سے بڑا اور کامیاب ترین آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے شروع ہونے کے بعد کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پالیا ہے، پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے افراد کو بیرونی مدد حاصل ہے تاہم عوام کے تعاون اور فوجی جوانوں کے حوصلے سے شروع کیے گئے آپریشن میں کامیابیاں حاصل کیں اور ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے 2 لاکھ سے زائد افواج کو اس مشن کے لیے مختص کیا گیا‘‘۔

وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور مسئلہ کشمیر کو عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top