The news is by your side.

وزیر اعظم نے ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیشکش کردی

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور ناممکن ہے۔

قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر بھی میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی، بطور وزیر اعظم میثاق معیشت پیشکش کا آج اعادہ کر رہا ہوں، وقت کا تقاضا اور قومی مفاد کو انا، ضد اور ہٹ دھرمی کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں، حقیقی قیادت الیکشن پر نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھتی ہے۔

شہباز شریف نے کہا: ’حکومتی اقدامات سے ڈالر کی قدر کمی ہو رہی ہے۔ اربوں ڈالر خرچ کر کے ہم باہر سے تیل منگوا کر مہنگی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پالیسیوں کے تسلسل اور معاشی استحکام سے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے‘۔

اے آر وائی نیوز براہِ راست دیکھیں: live.arynews.tv

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے ایل این جی کے سستے معاہدے کرنے میں غفلت برتی، گزشتہ حکومت نے کس کے اشارے پر سی پیک کو بند کر کے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، ہم نے غیر ضروری درآمدات کو سختی سے کنٹرول کیا، گزشتہ حکومت نے 48 ارب ڈالرز کا تاریخی قرضہ چھوڑا، پی ٹی آئی حکومت نے 20 ہزارز ارب کا تاریخی قرضہ لیا، 2018 میں پاکستان کو گندم میں خود کفیل چھوڑ کر گئے تھے، ان کی نااہلی کی وجہ سے آج ہم گندم درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا: ’آج ہمیں کئی بحرانوں کے ساتھ جذباتی بحران کا بھی سامنا ہے، اس بحران کے باعث ہمارا خودی، خودداری اور خود اعتمادی پر یقین متزلزل ہوگیا ہے، آج قوم کو مایوسی اور بحران کا سامنا ہے، آج نفرت کے بیج بو کر قومی و حدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں