The news is by your side.

وزیر اعظم نے عمران خان پر حملے کی تحقیقات کیلیے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کو خط لکھ دیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے خط میں حملے کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا کرتے ہوئے لکھا کہ سپریم کورٹ کے دستیاب ججز پر مشتمل کمیشن بنایا جائے اور کمیشن ان سوالات پر خاص طور پر غور کر سکتا ہے۔

خط کے مطابق لانگ مارچ کی حفاظت کی ذمہ داری کون سے اداروں کی تھی؟ اس کی حفاظت کے لیے مروجہ حفاظتی اقدامات لاگو کیے گئے اور کیا عمل کیا گیا؟ حادثے کے اپنے حقائق کیا ہیں؟ ایک سے زیادہ شوٹرز کی موجودگی کی اطلاع اور جوابی فائرنگ کے حقائق کیا ہیں؟ مجموعی نشانہ بننے والوں کی تعداد اور زخموں کی نوعیت سے متعلق حقائق کیا ہیں؟

شہباز شریف نے لکھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامی حکام نے تفتیشی طریقہ کار کو اختیار کیا؟ وقوع کے بعد اداروں اور انتظامی حکام نے شہادتیں جمع کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو ضابطے کی کیا خامیاں اور کمزوریاں سامنے آئیں؟ ضابطے کی کوتاہیوں کا ذمہ دار کن انتظامی حکام، اداروں اور عہدیداروں کو ٹھہرایا گیا؟

یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف کیس: جوڈیشل کمیشن بنانے کیلیے وزیر اعظم کا چیف جسٹس کو خط

’کیا وقوعہ کی تحقیقات کے عمل میں دانستہ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں؟ اگر ڈالی جا رہی ہیں تو یہ عناصر کون ہیں اور ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا یہ قاتلانہ سازش تھی جس کا مقصد واقعی عمران خان کو قتل کرنا تھا یا انفرادی اقدام تھا؟ ان دونوں صورتوں میں سے کسی ایک کے بھی ذمہ دار عناصر کون ہیں؟‘

وزیر اعظم نے خط میں کہا کہ قانون کی حکمرانی کے مفاد میں درخواست پر عمل پر وفاقی حکومت مشکور ہوگی، مقصد کے حصول میں حکومت کمیشن کو مکمل معاونت فراہم کرے گی، عمران خان کے جلوس میں فائرنگ کے واقعے سے ملک میں ہیجانی کیفیت ہے، پی ٹی آئی راہنما زہر آلود تقاریر کر رہے ہیں، پُرتشدد ہنگامہ آرائی سے ریاست کو خطرات ہیں۔

’پاکستان اور عالمی میڈیا میں اس کی کوریج ہو رہی ہے۔ 72 گھنٹے گزرنے پر ایف آئی آر نہ ہوئی۔ پی ٹی آئی کے ماتحت پنجاب حکومت نے بدقسمتی سے تحقیقات درست نہیں کیں۔ قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا جن پر ایسے واقعات میں عمل کیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر ہے کہ کرائم سین کو محفوظ نہیں کیا گیا۔ جس کنٹینر پر واقعہ ہوا اور لوگ زخمی ہوئے اسے بھی فرانزک کے لیے تحویل میں نہیں لیا گیا۔‘

’پی ٹی آئی چیئرمین کی میڈیکولیگل رپورٹ بھی نہیں ہوئی۔ عمران خان کو پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا جو قانون کے مطابق میڈیکولیگل کا پروسیجر نہیں۔ وقوعہ کے بعد جو طریقہ کار اپنایا گیا اس سے شک ہے کہ شہادتوں میں گڑبڑ کی جا سکتی ہے۔ تحقیقات اور شہادتیں جمع کرنے کے مروجہ طریقہ کار نہ اپنانا بدنیتی کا مظاہرہ ہے۔ وفاقی حکومت پہلے ہی خط لکھ کر صوبائی انتظامیہ کو تحفظات سے آگاہ کر چکی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی سرپرستی میں شرپسند پُرتشدد حملے کر رہے ہیں۔‘

خط میں مزید لکھا گیا: ’ریاستی اداروں کے خلاف کردار کشی اور بے بنیاد الزامات کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ مسلح افواج پر وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر سازش کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ حقائق کے تعین اور عوامی اعتماد کی خاطرحکومت کی رائے میں کمیشن بننا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کا کمیشن ذمہ داروں کا تعین کرے اور اصل حقائق سامنے لائے۔ موجودہ حالات امن عامہ اور پاکستان کی ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں