The news is by your side.

Advertisement

صدارتی آرڈیننسز کے خلاف ن لیگ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن نے صدارتی آرڈیننسز کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن نے 30 صدارتی آرڈیننسز ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیے، عدالت کو دی جانے والی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس جاری کرنا آئین کے خلاف ہے۔

درخواست میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری، وزارتِ قانون، صدر، سیکریٹری پارلیمنٹ اور سیکریٹری سینیٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ درخواست عمر گیلانی ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو پارلیمنٹ کی تنظیم برقرار رکھنے کا حکم دے۔

یہ بھی پڑھیں:  صدر عارف علوی نے بے نامی ٹرانزیکشن سمیت 8 آرڈیننسز کی منظوری دے دی

یاد رہے کہ اکتیس اکتوبر کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 8 نئے آرڈیننسز کی منظوری دے دی تھی، جن میں حقوق خواتین، وراثتی سرٹیفکیٹ آرڈیننس، لیگل اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس، نیب ترمیمی آرڈیننس، سپیریئر کورٹس ڈریس آرڈیننس، بے نامی ٹرانزیکشن آرڈیننس، کورٹ آف سول پروسیجر آرڈیننس، وسل بلور پروٹیکشن اینڈ ویجی لینس کمیشن آرڈیننس شامل ہیں۔

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش کیے جائیں، پارلیمنٹ ہی قوانین منظور کر سکتی ہے۔ اپوزیشن نے صدارتی آرڈیننسز کی منظوری کو مسترد کر دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں