The news is by your side.

Advertisement

گوجرانوالہ میں لڑکیوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنانے والا ملزم مسلم لیگ ن کا کارکن نکلا

گوجرانوالہ : لڑکیوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنانے والا ملزم مسلم لیگ ن کا کارکن نکلا، شہر میں شہباز شریف کے بینرز پر ملزم کی تصویریں نمایاں ہیں، علاقے کے لوگوں نے بھی احتجاج کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ میں بھی شیطانی کھیل کھیلنے والے بے نقاب ہوگئے، کم عمر لڑکیوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنانے کا انکشاف سامنے آگیا، جس کے بعد پولیس نے دو ملزمان راشد اور طارق کو گرفتار کرکے متعدد ویڈیوز برآمد کرلی گئیں۔

لڑکیوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنانے والا گرفتار ملزم راشد خان مسلم لیگ ن کا کارکن نکلا، لڑکیوں سے مبینہ زیادتی اور ویڈیوز بنانے والے ملزم راشد خان کی شہباز شریف کے لیے لگے بینرز پر تصویر نمایاں ہے، بینرز پر راشدخان کو جنرل سیکرٹری حمزہ یوتھ ونگ ظاہر کیا گیا تھا۔


مزید پڑھیں : گوجرانوالہ: کم عمر لڑکیوں سے زیادتی اور ویڈیو بنانے کا انکشاف، دو ملزمان گرفتار


لیگی یوتھ ونگ کے صدر نے راشد خان سے لا تعلقی ظاہر کردی جبکہ ویڈیو اسکینڈل سامنے آنے کے بعد کوہلو والا میں احتجاج ہوا، مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملزمان کو فوری کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں کی تعداد چھ سے زائد ہے، ورثاسامنے آنے کو تیار نہیں، راشد کی کوہلو والا بازار میں فلموں کی دکان ہے۔

پولیس نے ملزم راشد اور طارق شاہ کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں گوجرانوالہ کے علاقے نو شہرہ ورکاں سے 9 سالہ ننھی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، بچی کو پہلے اغوا کیا گیا، بعد ازاں درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی لاش قریبی نالے میں پھینک کی دی گئی تھی۔


مزید پڑھیں : گوجرانوالہ ملازمہ تشدد کیس: بچی سے جنسی زیادتی کا بھی انکشاف


واقعے کے بعد پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے زیادتی میں ملوث اشتیاق نامی شخص کو گرفتار کیا، جس نے تقتیش کے دوران ہی اقرار جرم کر لیا تھا۔

واضح رہے فروری میں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سنا دیا، جرم ثابت ہونے پر حسیم عامر کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ مجرم نے متاثرہ بچے کے خاندان سے بھتہ بھی وصول کیا تھا۔ ملزم علیم آصف ، نسیم شہزاد اور مقصود سندھی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں