فیصل آباد: گھریلو ملازمہ سے زیادتی کیس میں نامزد مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی طاہر جمیل کو تاحال گرفتار نہ کیا جاسکا۔
تفصیلات کے مطابق فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی، 2 بیٹے گھریلو ملازمہ سے زیادتی کیس میں نامزد ہیں البتہ تفتیشی افسران اسپیکر پنجاب اسمبلی سے اُن کی گرفتاری کی اجازت نہ لے سکی۔
رکن اسمبلی ایم پی اےطاہر جمیل اور 2 بیٹوں پر الزام ہے کہ انہوں نے گھر میں کام کرنے والی چودہ سالہ ملازمہ سے نازیبا حرکات کیں اور اُسے زیادتی کا بھی نشانہ بنایا۔
ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہے کہ کل رکن اسمبلی کی گرفتاری کے حوالے سے اسپیکر کو خط ارسال کر کے محکمانہ کارروائی کا عمل مکمل کرلیا جائے گا اور جلد ہی طاہر جمیل کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ن لیگی ایم پی اے طاہرجمیل پر ملازمہ سے زیادتی کا مقدمہ درج
یاد رہے کہ ایک روز قبل پولیس نے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے طاہرجمیل کے خلاف ملازمہ سے زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا، مقدمے میں ان کے دو بیٹوں اور اہلیہ کو بھی نامزد کیا۔ چودہ سالہ ملازمی صائمہ کے والد ریاض نے پولیس کو درخواست دے کر ایف آئی آر کٹوائی۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں زیادتی، چلڈرن ایکٹ سمیت3 دفعات شامل ہیں، اسپیکرپنجاب اسمبلی کی اجازت کے بعد ایم پی اے کو گرفتارکیا جائے گا۔
ریاض مسیح کا کہنا تھا کہ ایم پی اے طاہرجمیل نے میری بیٹی کو2 بار زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ اُس کی بیوی بانو میری بیٹی کوتشدد کا نشانہ بناتی تھی،ایم پی اے کے بیٹے آفاق اورسعد نازیبا حرکات کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد میں کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کا میڈیکو لیگل درخواست ملتے ہی کرا لیا گیا تھا، لڑکی کے جسم سے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ میں ملازمہ کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی جبکہ فرانزک لیبارٹری سے نمونوں کی رپورٹ آنے پر حتمی رائے دی جائے گی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ سے واضح ہوگا زیادتی کس نے کی، متاثرہ بچی کے جسم سے 3 نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے۔