site
stats
اہم ترین

ضمنی الیکشن لودھراں، مسلم لیگ (ن) فاتح، علی ترین ہار گئے

لودھراں : جہانگیرترین کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست 154 لودھراں میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں شیر نے بَلے کو پچھاڑ دیا جب کہ تیر فضا میں اُڑان بھرنے سے پہلے ہی زمین بوس ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے تحت مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پیراقبال شاہ ایک لاکھ 16 ہزار 590 ووٹ لے کر تحریک انصاف کی جیت لے اُڑے ہیں جب کہ تحریک انصاف کے علی ترین 91 ہزار 230 ووٹ ہی لے سکے.

خیال رہے یہ نشست پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی جس کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے علی ترین، مسلم لیگ ن کے پیرسید اقبال شاہ، پیپلزپارٹی کے مرزا محمد علی بیگ اور ملک اظہر سندیلہ سمیت 10 امیدوار مدمقابل تھے۔

ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے نوعمر علی خان ترین جو کہ جہانگیر ترین کے صاحبزادے بھی ہیں نے مسلم لیگ ن کے  سنیئر اور منجھے ہوئے امیدوار پیرسید اقبال شاہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا  اور حکومتی مشینری کو شکست دینے کے لیے کارکنان کو متحرک کیا اور سیاست میں نو وارد نوجوان علی ترین تجربہ کار سیاست دانوں کے مقابلے میں 91 ہزار سے زائد ووٹ لینے میں کامیاب رہے۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی بڑی تعداد مرکزی دفتر پر جمع ہو گئی اور ڈھول کی تھاپ و پارٹی ترانوں پر رقص کرکے اپنے خوشی کا اظہار کیا، اس موقع پر مٹھائی بھی تقسیم کی گئی جب کہ کچھ کارکنان نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

ضمنی الیکشن کے لیے این اے 154 میں 4 لاکھ 31 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے جن کے لیے 338 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جن میں سے 6 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا تھا، ضمنی الیکشن میں پولنگ کا عمل شفاف رکھنے کے لیے پولیس کے 2 ہزار اور پاک فوج کے جوانوں نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں۔


جہانگیر ترین نا اہل قرار


خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 15 دسمبر کو مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر جہانگیر ترین کو آف شور کمپنی اور اس کے اثاثے چھپانے پر نااہل قرار دیا تھا۔


 خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top