وزیراعظم کےکزن طارق شفیع کی جے آئی ٹی کے سامنے دوسری پیشی -
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کےکزن طارق شفیع کی جے آئی ٹی کے سامنے دوسری پیشی

اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف کے کزن طارق شفیع نے پاناماکیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کوئی نئی دستاویز جمع طلب نہیں کی گئی نہ ہی دوبارہ پیشی کے لیے کا کہا گیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے کزن طارق شفیع نے اپنی پیشی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آج کی پیشی میں کوئی نئی دستاویز جمع نہیں کرائی ہے اور نہ ہی پچھلے بیان سے منحرف ہوا، وہ صبح 12 بجے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے جوڈیشل اکیڈمی پہنچ تھے۔

انہوں نے اپنی مختصر گفتگو میں کہا کہ جے آئی ٹی نے دوبارہ طلب نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی سمن جاری کیا ہے تاہم اگر دوبارہ طلب کیا گیا تو ضرور حاضر ہوں گا

جے آئی ٹی ارکان کے رویے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نواز شریف کے کزن طارق شفیع نے کاموشی اختیار کی اور بغیر جواب دیے روانہ ہو گئے

قبل ازیں 15مئی کو اپنی پہلی پیشی کے موقع پر طارق شفیع نے جے آئی ٹی ارکان کی رویے کی شکایت کرتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا تھا۔

خیال رہے وزیراعظم کے کزن طارق شفیع سے حدیبیہ پیپرزملز اور 90 کی دہائی میں ہونےوالے کاروباری معاملات پرپوچھ گچھ کا عمل جا ری ہے اور شریف خاندان کی جائیداد سے متعلق دستاویزات کی جانچ پڑتال کا کام جاری ہے۔

دوسری جانب جے آئی نے 25 جون کو جاری کیے گئے سمن جاری میں حسن نواز کو3 جولائی ، حسین نواز کو4 جولائی اور مریم نواز کو 5 جولائی کو طلب کیا ہے، حسین نوازکی یہ چھٹی اورحسن نواز کی تیسری پیشی ہوگی جب کہ مریم نواز کی پہلی بار پیش ہوں گی۔


شریفوں کو بچانے کےلیے ریکارڈ میں ردوبدل انصاف کی راہ میں مداخلت ہے‘ عمران خان


یاد رہےکہ دو روزقبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرتحریک انصاف کےسربراہ عمران خان نے اپنے پیغام میں کہاتھاکہ شریفوں کو بچانے کے لیے ریکارڈ میں ردوبدل کی رپورٹس آ رہی ہیں اوراگررپورٹس درست ہیں تویہ فراہمی انصاف کی راہ میں سوچی سمجھی مداخلت ہے۔

واضح رہےکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہاتھا کہ اس جرم میں ملوث افراد کو جیل میں ہونا چاہیے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں