The news is by your side.

Advertisement

پی ڈی ایم یادداشت کے متن کے نکات

اسلام آباد: آج الیکشن کمیشن کے باہر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے فارن فنڈنگ کیس کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرہ کیا، اس دوران ایک یادداشت پر تمام رہنماؤں نے دستخط کیے۔

پی ڈی ایم یادداشت کے متن کے نکات کے مطابق 14 نومبر 2014 کو فارن فنڈنگ کیس دائر ہوا، اور اب 2021 آ چکا ہے، 6 برس سے الیکشن کمیشن میں یہ کیس زیر التوا ہے، اور اس دوران سنگین مالی بے ضابطگیوں کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات نہ ہو سکی، نہ اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ ہو سکا۔

پی ڈی ایم یادداشت میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ساکھ میں لاپرواہی سے متعلق سوالات زبان زد عام ہو چکے ہیں، الیکشن کمیشن نے 2018 میں حسابات کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا، اس حساباتی عمل کو اب 3 سال ہو چکے ہیں، جب کہ اسکروٹنی ٹیم کو تحقیقات ایک ماہ میں مرتب کر کے رپورٹ پیش کرنی تھی، لیکن عدم تعاون سے اسکروٹنی کمیٹی کو لامحدود توسیع دی گئی۔

پی ڈی ایم کے احتجاج پر الیکشن کمیشن کا اہم بیان

یادداشت میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 10 اکتوبر 2019 کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے کہا مقدمے میں پی ٹی آئی نے تاخیری حربے استعمال کیے، آخر ایک ملزم کو تاخیری حربے استعمال کرنے کا موقع کیوں فراہم کیا گیا؟

یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ تحقیقاتی عمل کو ان کیمرہ نہ رکھا جائے، یہ عمل شفافیت کے اصول اور الیکشن کمیشن احکامات کی خلاف ورزی ہے، فنڈنگ کیس میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے لیے اوپن کیا جائے۔

متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکبر ایس بابر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، اس کا اظہار درخواست گزار تحریری طور پر الیکشن کمیشن کے نوٹس میں لا چکے ہیں، الیکشن کمیشن کیس کا فیصلہ ہونے تک اکبر ایس بابر کی حفاظت کے احکامات صادر کرے، مدعی مقدمے کو گزند پہنچا تو اس کا ذمہ دار عمران خان اور الیکشن کمیشن ہوگا۔

واضح رہے کہ آج پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج تو کر لیا، لیکن الیکشن کمیشن میں یادداشت جمع نہیں کرائی، تحریری دستاویز پر اسٹیج پر موجود قائدین سے دستخط لیے جاتے رہے، ذرائع کا کہنا ہے جلسہ ختم ہوتے ہی تمام قائدین اور شرکا یادداشت دیے بغیر واپس چلے گئے، الیکشن کمیشن نے بھی پی ڈی ایم کی کوئی یادداشت موصول نہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں