پوکیمون گو ذاتی معلومات افشا کرسکتا ہے -
The news is by your side.

Advertisement

پوکیمون گو ذاتی معلومات افشا کرسکتا ہے

کیا آپ نے ’پوکیمون گو‘ گیم کھیلا ہے؟ پاکستان میں یہ گیم محدود پیمانوں پر دستیاب ہے تاہم دنیا بھر میں اس کے بخار، اس کے باعث ہونے والے مختلف حادثات و دلچسپ واقعات کے بارے میں آپ نے ضرور پڑھا یا سنا ہوگا۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پوکیمون گو گیم سے آپ کو کیا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق پوکیمون گو گیم ایک سیکیورٹی رسک اور آپ کی ذاتی معلومات کے لیے ایک خطرہ ہے۔

pokemon-1

جب کوئی شخص پوکیمون گو گیم کھیلتا ہے تو وہ گوگل اکاؤنٹ کے ذریعہ اپنی تمام معلومات، بشمول گھر کے پتے کے مرکزی انٹرنیٹ سسٹم میں ڈال دیتا ہے۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں کیوںکہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی اکاؤنٹ بنانے سے پہلے یہ تمام معلومات ضروری ہوتی ہیں۔

لیکن اگر آپ پوکیمون گو کھیل رہے ہیں تو کسی بھی انٹرنیٹ کے ماہر کے لیے یہ جاننا نہایت آسان ہے کہ آپ اس وقت کہاں موجود ہیں۔ وہ نہ صرف آپ کے موجودہ مقام سے واقف ہوسکتا ہے بلکہ آپ کے آس پاس موجود مقامات کو بھی باآسانی دیکھ سکتا ہے۔

پوکیمون گو کھیلنا حرام قرار *

پوکیمون تلاش کرنے والے بارودی سرنگوں سے محتاط رہیں *

پوکیمون گو کی پرائیوسی پالیسی میں ایک شق موجود ہے جسے شاید اب تک کم ہی لوگوں نے پڑھا ہے۔ اس کے مطابق پوکیمون گو کی انتظامیہ حکومتی اور سیکیورٹی اداروں کی معاونت کے لیے ہر وقت تیار ہے اور وہ آپ یا آپ سے متعلقہ افراد کی تمام معلومات حکومتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے ادارے یا کسی ’پرائیوٹ پارٹی‘ کو دے سکتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ’یہ پرائیوٹ پارٹی‘ کون ہوسکتی ہے۔

policy

پالیسی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ پوکیمون گو کھیلنے والے کسی بھی شخص کی حرکات کو غیر قانونی یا غیر اخلاقی سمجھے گی تو وہ متعلقہ حکام کو اس کی اطلاع دے گی۔

اس سے قبل فیس بک، ایپل اور گوگل امریکی قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ وہ ان کی اپیل پر اپنے صارفین کا 80 فیصد ڈیٹا ان کے حوالے کر سکتی ہیں۔ اس کے برعکس پوکیمون گو کے خالق جان ہینک نے اپنے صارفین کی تمام معلومات دینے کا وعدہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پوکیمون گو گیم جاپانی کمپنی ننٹینڈو کی جانب سے بنایا گیا ہے اور اس کے خالق جان ہینک ہیں۔

pokeman-2

جان ایک اور ویب سائٹ ’کی ہول‘ کا بھی حصہ ہیں جسے کھولتے ہی آپ گوگل اسٹریٹ ویو تک رسائی حاصل کرلیں گے۔

بعض ذرائع کے مطابق جان ہینک کو اپنی مختلف کمپنیاں قائم کرنے کے لیے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کی مالی معاونت بھی حاصل ہے۔

اس سے قبل بھی کئی بار یہ بات سامنے آچکی ہے کہ سی آئی اے فیس بک اور مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ دنیا بھر کے لوگوں کی نگرانی کر رہی ہے اور ان کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔ اس بات کاا نکشاف وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے بھی کیا تھا۔

cia

ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاید یہ گیم سی آئی اے کی ہی ایما پر بنایا گیا ہے تاکہ وہ دنیا کے ہر شخص کی معلومات کم وقت اور زیادہ درست طریقہ سے حاصل کرسکیں۔ ماہرین کے مطابق پوکیمون گو گیم دنیا کے کسی بھی حصہ میں بیٹھے کسی بھی شخص کی تمام درست معلومات چند سیکنڈز میں کسی انٹرنیٹ ماہر کے حوالے کرسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں