The news is by your side.

Advertisement

معمولی بات پر بھارتی پولیس کا مولانا پر تشدد، مارنے کیلئے بندوق تان لی

کرناٹک : بھارت میں مسلمانوں پر مظالم اور انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جانا عام سی بات ہے، اسی سلسلے میں بہت سے واقعات خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

ایک ایسا ہی واقعہ بھارتی ریاست کرناٹک کے چکمگلور ضلع میں پیش آیا، جہاں ایک پولیس اہلکار نے ایک مولانا کو پستول دکھا کر دھمکی دی، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ پولیس کو معاملے کی تفتیش کرنا پڑی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مولانا محمد امتیاز نامی شخص کو محض مسلمان ہونے کی بنا پر ٹوٹی ہوئی نمبر پلیٹ کی وجہ سے پولیس اہلکار نے بندوق دکھا کر دھمکی دی تھی۔

چکمگلور ضلع کے پولیس افسر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم متاثرین اور مسلم رہنماؤں سے رابطہ کرکے انہیں اعتماد میں لینے کے لئے پہنچے اور انہیں واقعے سے متعلق غیر جانبدارانہ تفتیش اور کارروائی کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے تھانہ میں بدسلوکی کے حوالے سے بیان دیا ہے، پولیس کی جانب سے بندوق دکھا کر دھمکائے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مولانا محمد امتیاز کے بیان کے مطابق تھانہ میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔

دوسری جانب مولانا امتیاز نے کہا ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو معاف کر دیا ہے جنہوں نے ان پر حملہ کیا تھا اور اس افسر کو بھی معاف کر دیا ہے جس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا۔

مولانا امتیاز کا کہنا تھا کہ کوئی شخص جو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ایسے تجربہ سے نہ گزرے جو میرے ساتھ ہوا۔ پولیس نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ کارروائی کریں گے تاہم میں اس معاملہ میں مزید شکایت نہیں کرنا چاہتا۔

خیال رہے کہ مولانا امتیاز کو علاقہ پولیس نے گاڑی میں سفر کرتے ہوئے خراب رجسٹریشن پلیٹ کی وجہ سے روک لیا تھا، انہوں نے نوٹس پر زور دیا اور اسپاٹ فائن بھرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ صرف اور صرف عدالت میں ہی چالان کی ادائیگی کریں گے۔

مولانا امتیاز کا کہنا ہے کہ یہ بات سن کر پولیس افسر نے طیش میں آکر ان کو تھپڑ مارا اور دھمکانے کے لئے اپنی بندوق بھی نکال کر مجھ پر تان لی۔

ذرائع کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو خود مولانا امتیاز نے بنائی ہے، بعد میں انہیں ایک گھنٹے تک تھانہ میں بٹھایا گیا اور 500 روپے ادا کرنے کے بعد ہی گھر جانے دیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں