The news is by your side.

Advertisement

مریضوں کے علاج میں پولیس کا کردار نہیں ہونا چاہیے: پی ایم اے

لاہور: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں پولیس کا کردار نہیں ہونا چاہیے۔

صدر پی ایم اے ڈاکٹر اشرف نظامی نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس میں مبتلا افراد کو ان کے گھروں میں آئسولیشن کی اجازت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کے علاج میں پولیس کا کردار نہیں ہونا چاہیے، بہت سے ایسے افراد کو پولیس گھروں سے پکڑ کر لا رہی ہے جنھیں ہلکا بخار یا فلو ہوتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ وینٹی لیٹر کی ضرورت پر یا بہت زیادہ بیمار افراد ہی کو اسپتال لایا جائے۔

پاکستان میں کورونا سے 31 اموات، کیسز کی تعداد 2291 تک پہنچ گئی

صدر پی ایم اے نے کہا کہ پاکستان میں بیماری ایک سے دوسرے آدمی کو منتقل ہو رہی ہے، اب سرحد اور ایئر پورٹ سے ملک میں بیماری آنے کا خطرہ نہیں، اسپتالوں پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تشویش ناک اضافہ ہو رہا ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 2291 ہو گئی ہے، جب کہ اب تک وائرس سے 31 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

26 فروری سے اب تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں حالات تیزی سے تشویش ناک ہوتے جا رہے ہیں، پہلے کیس سے ایک مہینے بعد یعنی 24 مارچ تک 1 ہزار کیس رپورٹ ہوئے، اور پھر اس کے اگلے ہی ہفتے یہ تعداد دگنی ہو گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں