The news is by your side.

Advertisement

ڈنمارک، نقاب پوش مسلم خاتون کو دلاسہ دینے والی خاتون اہلکار مشکل میں‌ پڑگئی

کوپن ہیگن: ڈنمارک میں برقع پر پابندی کے باوجود خاتون پولیس اہلکار کی جانب سے نقاب پوش مسلم خاتون کو گلے لگانے پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈنمارک میں پولیس نے اپنی ہی خاتون اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں، اس خاتون اہلکار کا قصور یہ ہے کہ اس نے دارالحکومت کوپن ہیگن میں گزشتہ ماہ چہرے کے نقاب پر حکومت کی جانب سے عائد پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران انسانی ہمدردی کے جذبے سے ملغوب ہوکر ایک نقاب پوش خاتون کو گلے لگالیا تھا۔

نقاب پوش خاتون ڈنمارک میں عوامی مقامات پر مسلم خواتین کے چہرے کے نقاب اوڑھنے پر عائد کردہ پابندی کے خلاف احتجاج کے دوران روتی ہوئی نظر آرہی تھیں اور انہیں اس خاتون اہلکار نے بظاہر دلاسا دینے کی کوشش کی تھی۔

ڈنمارک کی حکمران لبرل جماعت وینسترے کے ایک لیڈر مارکس کنتھ کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو نے پولیس کو غیررضاکارانہ طور پر ایک بہت ہی حساس نوعیت کی سیاسی بحث میں الجھنے پر مجبور کردیا ہے۔

حکمران جماعت کے لیڈر اور دوسرے ناقدین نے پولیس کی توجہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز کی جانب دلائی تھی اور خاتون اہلکار کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا کام قانون کا نفاذ ہے، یہ نہیں کہ وہ قانون کی مخالفت کرنے والوں ہی سے گلے ملنا شروع کردیں۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے صارفین کی جانب سے خاتون اہلکار کے اس اقدام کو سراہا جارہا ہے جبکہ ڈنمارک کی حکومت پر تنقید کی جارہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں